Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا جیلاٹین والی کھانے پینے والی اشیاء کا استعمال کرنا جائز ہے؟

کیا جیلاٹین والی کھانے پینے والی اشیاء کا استعمال کرنا جائز ہے؟

موضوع: حلال اور حرام جانور   |  حلال کھانے   |  حرام کھانے   |  جدید فقہی مسائل

سوال پوچھنے والے کا نام: بشیر احمد نزمی       مقام: کوپن ہیگن ۔ ڈنمارک

سوال نمبر 1621:
ہمارے ہاں کھانے کی اکثر اشیاء (ٹافیاں، بسکٹ، کیک، بریڈ اور دیگر کھانے کی تیار شدہ اشیاء) کے اجزاء میں جیلاٹین Gelatine پائی جاتی ہے۔ جیلاٹین زیادہ تر جانوروں کی ہڈیوں، ریشوں اور جلد سے تیار کی جاتی ہے۔ جیلاٹین حلال جانوروں مثلاَ گائے بکرا وغیرہ کے علاوہ حرام جانوروں مثلاَسور وغیرہ سے بھی حاصل کی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں جیلاٹین زیادہ تر سؤر کی ہی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ بہت کم مقدار میں سبزیوں سے جیلاٹین تیار کی جاتی ہے۔ مگر اجزاء میں یہ وضاحت اکثر نہیں ہوتی کہ جیلاٹین جانوروں کی ہے یا سبزیوں کی۔ سوال یہ ہے کہ آیا ایسے حلال جانوروں (گائے بکرا) جو اسلامی طریق پر ذبح نہ کئے گئے ہوں، سے حاصل شدہ جیلاٹین حلال ہے یا کہ نہیں؟ اس کے ساتھ ہی دوسرا سوال ہے کہ آیا حرام جانوروں (سؤر وغیرہ) سے حاصل شدہ جیلاٹین حلال ہے یا نہیں؟ ہمارے ہاں جیلاٹین کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ کچھ کا خیال ہے کہ چونکہ جیلاٹین بذات خود گوشت نہیں ہے اور یہ ایک خاص پروسیس سے گزر کر تیار ہوتی ہے، اس لئے یہ خواہ حلال جانور کی ہو یا حرام جانور کی، حلال ہے اور اس طرح جیلاٹین والی اشیاء کھانا جائز ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ جیلاٹین حرام ہے۔ اور جیلاٹین والی اشیاء کھانا حرام ہے۔ اس سلسلے میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔ شکریہ یہی مسئلہ کھانے کی اشیاء میں اینیمل فیٹ کا ہے۔ اس بارے میں بھی رہنمائی فرمائیں ۔ شکریہ

جواب:

جیلاٹین اور اس کے اجزائے ترکیبی کے بارے میں انٹرنیٹ سے حاصل ہونے والی معلومات کی روشنی میں آپ کے سوال کا جواب درج ذیل ہے:

جدید ترقی یافتہ دور میں انسان کو ہر طرح کی معلومات بہ آسانی میسر ہوجاتی ہیں۔ قرآن حکیم کی تجوید و قراءت سیکھنی ہو یا انگریزی زبان کا کوئی کورس کرنا ہو، کمپیوٹر کے کسی سافٹ وئیر کے بارے میں معلومات درکار ہوں یا یا ہوائی جہاز اڑانے کی تکنیک سے آگاہی حاصل کرنا ہو، خلائی کائنات کے بارے میں جاننا ہو یا بحر الکاہل کی اتھاہ گہرائیوں سے شناسائی درکار ہو، ہر طرح کی معلومات گھر بیٹھے حاصل کی جاسکتی ہیں۔

یہی اصول جیلاٹین پر اپلائی ہوگا۔ استعمال سے قبل اس کے اجزائے ترکیبی کے بارے میں وافر معلومات حاصل کرلی جائیں۔ اگر کمپنی نے اپنی پراڈکٹ پر کافی معلومات فراہم کر دی ہیں تو ٹھیک وگرنہ کمپنی کی ہاٹ لائن پر رابطہ کرکے بھی جانا جاسکتا ہے کہ فلاں پراڈکٹ میں استعمال شدہ جیلاٹین کن اشیاء سے تیار کی گئی ہے۔ ایک مسلمان کے لیے تو یہی کافی ہے کہ اگر جیلاٹین حلال طریقے سے ذبح کیے گئے حلال جانوروں، سبزیوں یا مچھلیوں سے تیار کی گئی ہے تو اس کا استعمال جائز ہے۔ لیکن اگر جیلاٹین میں حرام جانوروں کا گوشت، کھال شامل ہو یا غیر شرعی طریقے سے مذبوحہ حلال جانوروں کے اجزاء شامل ہوں تو ایسی جیلاٹین یا اس سے بنی اشیاء کا استعمال جائز نہیں۔ ایسی جیلاٹین کے استعمال کو ترجیح دینی چاہیے جس کے اجزائے ترکیبی حلال ہوں۔ تقویٰ اسی کا نام ہے۔

اللہ تعالٰی ہمیں حرام سے بچنے اور صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ (آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: محمد فاروق رانا

تاریخ اشاعت: 2012-04-10


Your Comments