کیا قرآن میں بیان کردہ ناموں کے علاوہ کوئی نام رکھنا بدعت ہے؟

سوال نمبر:1615
السلام علیکم قرآن میں ہمارا نام مسلمان رکھا گیا ہے تو یہ جو فرقہ ورانہ نام استعمال ہوتے ہیں کیا یہ بدعت نہیں‌ ہوتے؟

  • سائل: محسن علیمقام: گوجرہ
  • تاریخ اشاعت: 10 اپریل 2012ء

زمرہ: متفرق مسائل

جواب:

قرآن کی کس آیت میں یہ لکھا ہے کہ ہمارا نام مسلمان رکھا گیا ہے، اور اس کے علاوہ کوئی اور نام رکھنا ناجائز ہے؟

قرآن میں تو مسلمانوں کو "حنیفا مسلمان" بھی کہا گیا ہے۔

دوسرا یہ نام پہچان کے لئے ہیں ان کے رکھنے میں شرعا کوئی حرج نہیں ہے، خود قرآن نے بھی اس پہچان کا ذکر کیا ہے۔ 

اللہ تعالی نے فرمایا :

وجعلنکم شعوبا وقبائل لتعارفوا.

اور ہم نے تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔

جس طرح قبیلے، خاندان، یہ پہچان کے لئے ہیں اسی طرح مختلف گروہ اور فرقے بھی پہچان کے لئے ہیں۔ شرعا اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ان فرقوں سے پہچان ہوتی ہے۔ جیسے ہمارے خاندان اور مختلف ناموں سے پہچان ہوتی ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟