Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا قرآن میں بیان کردہ ناموں کے علاوہ کوئی نام رکھنا بدعت ہے؟

کیا قرآن میں بیان کردہ ناموں کے علاوہ کوئی نام رکھنا بدعت ہے؟

موضوع: متفرق مسائل

سوال پوچھنے والے کا نام: محسن علی       مقام: گوجرہ

سوال نمبر 1615:
السلام علیکم قرآن میں ہمارا نام مسلمان رکھا گیا ہے تو یہ جو فرقہ ورانہ نام استعمال ہوتے ہیں کیا یہ بدعت نہیں‌ ہوتے؟

جواب:

قرآن کی کس آیت میں یہ لکھا ہے کہ ہمارا نام مسلمان رکھا گیا ہے، اور اس کے علاوہ کوئی اور نام رکھنا ناجائز ہے؟

قرآن میں تو مسلمانوں کو "حنیفا مسلمان" بھی کہا گیا ہے۔

دوسرا یہ نام پہچان کے لئے ہیں ان کے رکھنے میں شرعا کوئی حرج نہیں ہے، خود قرآن نے بھی اس پہچان کا ذکر کیا ہے۔ 

اللہ تعالی نے فرمایا :

وجعلنکم شعوبا وقبائل لتعارفوا.

اور ہم نے تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔

جس طرح قبیلے، خاندان، یہ پہچان کے لئے ہیں اسی طرح مختلف گروہ اور فرقے بھی پہچان کے لئے ہیں۔ شرعا اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ ان فرقوں سے پہچان ہوتی ہے۔ جیسے ہمارے خاندان اور مختلف ناموں سے پہچان ہوتی ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

تاریخ اشاعت: 2012-04-10


Your Comments