کیا خدا اور نبی ایک ہو سکتے ہیں؟

سوال نمبر:1611
اسلام علیکم! ڈاکٹر صاحب نےمعراج شریف کے ایک بیان میں ایک شعر پڑہا۔ ہک اے ہک اے جیڑا ہک کوں ڈو آکہے اوہ کافر تے مشرک اے۔ اس سے کیا مراد ہے۔ کیا نبی اور خدا ایک ہو گے؟ اس شعر کی وجہ سے لوگ مختلف فتوے لگا رہے ہیں۔ کیا کسی بہی حالت میں یہ کہنا غلط نہیں ہوگا؟ مہربانی فرما کر اس پر روشنی ڈالیے۔ اور ہو سکے تو اس ویڈیو کا لنک بی دے دیں۔ شکریہ۔

  • سائل: محمد عاطف امینمقام: لاہور، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 10 اپریل 2012ء

زمرہ: توحید

جواب:

آپ اور لوگ اس شعر کو غلط سمجھے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ تعالی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کوئی فرق نہیں ہے۔ (معاذ اللہ)  اگر کوئی ایسا عقیدہ رکھتا ہے تو یہ کفر ہے، اللہ تعالی کی ذات واجب الوجود ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات ممکن الوجود، اللہ کی ذات حقیقی ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات عطائی، اللہ تعالی خالق ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مخلوق، اللہ تعالی کی ذات قدیم ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات حادث، اللہ کسی کا پابند نہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ کے پابند ہیں۔ اللہ معبود ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عبد ہیں۔

اس شعر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی خالق ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مخلوق ہیں۔ اللہ تعالی معبود اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عبد ہیں۔ اس کے علاوہ کوئی فرق نہیں ہے۔ قرآن میں سینکڑوں آیات اس چیز پر دلالت کرتی ہیں، کہ اطاعت میں اللہ و رسول ایک ہیں۔ جیسے قرآن نے کہا :

من يطع الرسول فقد اطاع الله

جس نے رسول کی اطاعت کی گویا اس نے اللہ کی اطاعت کی۔

 اسی طرح نافرمانی میں اللہ اور رسول ایک ہیں۔ رضا میں اللہ رسول ایک ہیں، محبت میں اللہ رسول ایک ہیں، الغرض اللہ کی جتنی صفات مخلوق میں نظر آتی ہیں یہ ساری صفات اللہ کی صفات کی تجلی ہیں، مثلا اللہ علم رکھنے والا ہے، سننے والا ہے، دیکھنے والا ہے، پکڑنے والا ہے، اسی طرح مخلوق بھی علم رکھنے والی ہے، سننے والی ہے، دیکھنے والی ہے تو کیا اللہ اور مخلوق برابر ہو گئیں، نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی کی یہ ساری صفات ذاتی ہیں اور مخلوق کی عطائی۔

اللہ تعالی نے فرمایا :

يد الله فوق ايدهم

ان کے ہاتھوں کے اوپر اللہ کا ہاتھ ہے،

حالانکہ صحابہ کرام کے ہاتھ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاتھ میں تھے، تو کیا اللہ اور رسول کے ہاتھ ایک جیسے ہیں۔

یہاں سمجھنے کی بات ہے کہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں خالق ومخلوق اور معبود وعبد کے علاوہ دوئی نہیں ہے، فرق نہیں ہے۔ جس طرح اللہ تعالی خالق و معبود ہونے میں وحدہ لا شریک  ہے اسی طرح حضور علیہ السلام مخلوق وعبد ہونے میں وحدہ لا شریک ہیں۔ محبت میں، رحمت میں، عشق میں، اطاعت میں، اللہ اور رسول ایک ہیں، ان میں کوئی فرق نہیں ہے۔ یہ اس شعر کا مطلب ہے۔

اللہ تعالیٰ اور مخلوق کے لیے قرآن مجید میں استعمال شدہ الفاظ جاننے کے لیے یہاں کلک کریں

مزید تفصیلات کے لئے اس خطاب کو توجہ وغور سے سنیں تو یقینا آپ اس شعر کا مطلب سمجھ جائیں گے۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے
معراج النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے موضوع پر خطابات سننے کے لیے یہاں کلک کریں

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟