امامت کا حقدار کون ہے؟


سوال نمبر:1609
نماز کی امامت کے سلسلے میں مکمل شرعی حکم بیان کریں اور ساتھ میں امامت کی شرائط بھی بتا دیں کہ کون جماعت کروا سکتا ہے؟ اس موضوع پر کوئی جامع کتاب بھی بتا دیں؟

  • سائل: محمد جنید انورمقام: پاکپتن شریف
  • تاریخ اشاعت: 10 اپریل 2012ء

زمرہ: شرائط امامت

جواب:

جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا اکیلے نماز پڑھنے سے زیادہ افضل ہے۔ اجر وثواب بھی زیادہ ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

صلاة مع الامام افضل من خمس وعشرين صلاة يصليها وحدة.

صحيح مسلم : 450/1 

انفرادی نماز کے مقابلے میں امام کے ساتھ پڑھی گئی نماز کا درجہ اجر وثواب پچیس گنا زیادہ ہے۔

اسی طرح ساری کتب حدیث میں جماعت کی اہمیت وفضیلت پر بے شمار احادیث موجود ہیں۔ خود قرآن میں بھی سورۃ البقرہ میں فرمایا :

وارکعوا مع الرکعين.

اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو۔

احناف کے نزدیک جماعت کے ساتھ پڑھنے کا شرعی حکم سنت مؤکدہ ہے۔

امامت کا حقدار کون ہے؟

اس کی شرائط درج ذیل ہیں۔

"حضرت ابی مسعود انصاری رضی اللہ عنہ نے فرمایا سب سے اچھا قرآن پڑھنے والا امامت کرے اگر قرات میں سب برابر ہوں تو سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زیادہ جاننے والا امامت کرے، اگر اس میں بھی سب برابر ہوں تو سب سے پہلے ہجرت کرنے والا امامت کرے، اگر اس میں بھی برابر ہوں تو سب سے پہلے مسلمان ہونے والا، ایک روایت میں ہے سب سے زیادہ عمر والا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری