Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - بیوی کا اپنے شوہر کے لیے سجنا سنورنا کیسا ہے؟

بیوی کا اپنے شوہر کے لیے سجنا سنورنا کیسا ہے؟

موضوع: جدید فقہی مسائل  |  طہارت

سوال پوچھنے والے کا نام: حسن شاہیر       مقام: لاہور، پا کستان

سوال نمبر 1599:
کیا بیوی کو اپنے شوہر کے لیے میک اپ کرنا اور اچھے لباس پہننے چاہیں؟ اور جب شوہر دفتر سے گھر آئے تو بیوی کو کیسے اس کا استقبال کرنا چاہیے؟

جواب:

جی ہاں بیوی کو اپنے شوہر کے لئے میک اپ کرنا اور اچھے لباس پہننے چاہیے۔ شریعت میں بیوی کو بننے سنورنے کا حکم تو اپنے شوہر کے لئے ہی ہے۔ اگر وہ اپنے شوہر کے لیے ایسا نہیں کرے گی تو پھر کس لئے بنے سنورے گی؟ قرآن مجید نے واضح طور پر حکم دیا ہے کہ بیوی اپنے شوہر کے لئے میک اپ کرے گی اور اس کے علاوہ بیوی اپنے محرم رشتے داروں کے لئے بھی بن سنور سکتی ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے۔

وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَى جُيُوبِهِنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ أَوْ نِسَائِهِنَّ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُنَّ أَوِ التَّابِعِينَ غَيْرِ أُوْلِي الْإِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ أَوِ الطِّفْلِ الَّذِينَ لَمْ يَظْهَرُوا عَلَى عَوْرَاتِ النِّسَاءِ وَلَا يَضْرِبْنَ بِأَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِينَ مِن زِينَتِهِنَّ وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ

سورة النور آيت نمبر 31

"اور آپ مومن عورتوں سے فرما دیں کہ وہ (بھی) اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش و زیبائش کو ظاہر نہ کیا کریں سوائے (اسی حصہ) کے جو اس میں سے خود ظاہر ہوتا ہے اور وہ اپنے سروں پر اوڑھے ہوئے دوپٹے (اور چادریں) اپنے گریبانوں اور سینوں پر (بھی) ڈالے رہا کریں اور وہ اپنے بناؤ سنگھار کو (کسی پر) ظاہر نہ کیا کریں سوائے اپنے شوہروں کے یا اپنے باپ دادا یا اپنے شوہروں کے باپ دادا کے یا اپنے بیٹوں یا اپنے شوہروں کے بیٹوں کے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھتیجوں یا اپنے بھانجوں کے یا اپنی (ہم مذہب، مسلمان) عورتوں یا اپنی مملوکہ باندیوں کے یا مردوں میں سے وہ خدمت گار جو خواہش و شہوت سے خالی ہوں یا وہ بچے جو (کم سِنی کے باعث ابھی) عورتوں کی پردہ والی چیزوں سے آگاہ نہیں ہوئے (یہ بھی مستثنٰی ہیں) اور نہ (چلتے ہوئے) اپنے پاؤں (زمین پر اس طرح) مارا کریں کہ (پیروں کی جھنکار سے) ان کا وہ سنگھار معلوم ہو جائے جسے وہ (حکمِ شریعت سے) پوشیدہ کئے ہوئے ہیں، اور تم سب کے سب اللہ کے حضور توبہ کرو اے مومنو! تاکہ تم (ان احکام پر عمل پیرا ہو کر) فلاح پا جاؤ"

تو درج بالا آیت کی روشنی میں پتہ چلا کہ بیوی کو اپنے شوہر کے لئے ہر وقت بن سنور کر رہنا چاہئے، اور خاص طور پراپنے بناؤ سنگھار کا اظہار اس وقت کرنا چاہیے جب شوہر کسی جگہ سے واپس آئے۔ مثلاً بیرون ملک سے، اپنے آفس سے، جب بھی شوہر گھر سے باہر ہو اور جب واپس آئے تو عورت کو بہت ہی پیار بھرے، مشفقانہ اور والہانہ انداز میں استقبال کرنا چاہیے، اچھا لباس پہن کر، بناؤ سنگھار، میک اپ کر کے، خوشبو لگا کر اچھی طرح بن سنور کر اپنے شوہر کا استقبال کرے تاکہ اس کا شوہر اس سے خوش ہو۔

جب بیوی ایسا کرے گی تو شوہر اس سے ہمیشہ خوش رہے گا اور کسی دوسری عورت کی طرف مائل نہیں ہو گا، اگر معاملہ اس کے برعکس ہو تو پھر دونوں کے تعلقات خراب ہو جاتے ہیں، فتنہ فساد ہوتا ہے، مگر افسوس یہ ہے کہ آج کے معاشرے میں عورت جب باہر جانے لگتی ہے تو خوب بناؤ سنگھار کرتی ہے، میک اپ کرتی ہے، اور گھر کے اندر شوہر کے سامنے صحیح لباس بھی نہیں پہنتی ہیں جو کہ حرام ہے، شریعت نے عورت کو اپنے خاوند کے لئے میک اپ کی اجازت دی ہے، دوسروں کے لئے نہیں۔ مگر اسلامی تعلیمات سے دوری کی وجہ سے ہمارے معاشرے کی خواتین اس کے برعکس چل رہی ہیں جو کہ ناجائز اور حرام ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

تاریخ اشاعت: 2012-04-02


Your Comments