Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - مسجد نبوی میں عیسائیوں کو عبادت کرنے کی اجازت کس نے دی؟

مسجد نبوی میں عیسائیوں کو عبادت کرنے کی اجازت کس نے دی؟

موضوع: عبادات  |  معاملات  |  اقلیتوں کے حقوق و فرائض

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد افضل قادری       مقام: کامونکے

سوال نمبر 1594:
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں مسجدِ نبوی میں عیسائیوں کو عبادت کرنے کی اجازت خود دی تھی؟ برائے مہربانی زیادہ سے زیادہ حوالے دیں کیوں کے کسی کو حوالے دیکھانے ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ واقع ہوا ضرور لیکن آقا نے ان کو عبادت کی اجازت نہیں دی تھی وہ عیسائیوں نے خود شروع کی تھی۔

جواب:

مسجد نبوی میں جب عیسائیوں نے اپنے مذہب کے مطابق عبادت کرنا شروع کر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں عبادت کرنے کی اجازت عطا فرما دی۔ اس واقعہ کی مکمل تفصیل درج ذیل ہے۔

قال ابن اسحاق و حدثنی محمد بن جعفر بن الزبير قال : لما قدموا علی رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم المدينة فدخلو عليه مسجده حين صلی العصر، عليهم ثياب الحبرات جبب و اردية، فی جمال رجال بن الحارث بن کعب قال : يقول بعض من رآهم من اصحاب النبی صلی الله عليه وآله وسلم يومئذ ما رأينا بعدهم وفدا مثلهم وقد حانت صلاتهم، فقاموا فی مسجد رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم يصلون : فقال رسول الله صلی الله عليه آله وسلم دعوهم، فصلوا الی المشرق

نجران کے عیسائیوں کا وفد مدینہ منورہ آیا، وفد میں 60 افراد تھے۔ جب وہ مدینہ منورہ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عصر کی نماز ادا کر چکے تھے۔ یمنی کپڑوں میں ملبوس، قبائیں اور چادریں لپٹے ہوئے، کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے انہیں دیکھ کر کہا کہ ہم نے ان جیسا وفد نہیں دیکھا۔ ان کی نماز کا وقت ہو گیا، وہ اٹھے اور مسجد نبوی میں نماز پڑھنے لگے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا انہیں چھوڑ دو، انہوں نے مشرق کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی۔

  1. السيرة النبوية ج 2 / 224

  2. الطبقات الکبری ج 1 / 357

  3. البداية والنهاية ج 5 / 51

  4. الروض الانف شرح سيرت ابن هشام

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

تاریخ اشاعت: 2012-08-03


Your Comments