Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا قبروں پر پانی کا چھڑکاؤ کرنا جائز ہے؟

کیا قبروں پر پانی کا چھڑکاؤ کرنا جائز ہے؟

موضوع: توسل   |  پانی

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد خالد       مقام: سعودی عرب-جدہ

سوال نمبر 1587:
السلام علیکم کیا قبروں پر پانی کا چھڑکاؤ کرنا جائز ہے؟ اس کی حقیقت کیا ہے؟ اگر کوئی حدیث ہے تو وہ بھی بتا دیں، شکریہ

جواب:

قبروں پر پانی چھڑکنا جائز ہے، اس میں شرعا کوئی حرج نہیں ہے ایسا کرنا مباح یعنی جائز امر ہے یہی اس کی حقیقت ہے، پانی صفائی، کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، 

دوسرا اس کا بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ قبر پر سبزہ اُگ جاتا ہے اور یہ سبزہ اللہ تعالی کی تسبیح کرتا ہے اور اللہ کی تسبیح کرنے سے قبر والے کے عذاب میں تخفیف ہوتی۔ کتب احادیث میں کثرت کے ساتھ یہ حدیث بیان ہوئی ہے۔

جیسا کہ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو قبروں کے پاس سے گزرے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ان کو عذاب ہو رہا ہے اور عذاب بھی کسی کبیرہ گناہ کی وجہ سے نہیں ہو رہا۔ ان میں سے ایک پیشاب کے چھینٹوں سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا لوگوں کی چغل خوری کرتا تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سر سبز ٹہنی کے دو ٹکڑے کیے اور دونوں قبروں پر ایک ایک ٹکڑا لگا دیا اور فرمایا جب تک ٹہنی کے یہ ٹکڑے اللہ کی تسبیح کرتے رہیں گے ان کے عذاب میں تخفیف رہے گی۔

متفق عليه

صحيح بخاری کتاب الادب باب الغيبة

صحيح مسلم کتاب الطهارة، باب الاستبرا من البول

سنن ابی داؤد کتاب الطهارة، باب الاستبرا من البول

سنن النسائی کتاب الطهارة، باب الاستبرا من البول

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

تاریخ اشاعت: 2012-04-10


Your Comments