اخلاص کو اعمال میں کیا اہمیت حاصل ہے؟

سوال نمبر:157
اخلاص کو اعمال میں کیا اہمیت حاصل ہے؟

  • تاریخ اشاعت: 21 جنوری 2011ء

زمرہ: روحانیات  |  روحانیات

جواب:

اخلاص کو تمام عبادات اور نیک اعمال میں روح کی حیثیت حاصل ہے۔ قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا :

فَاعْبُدِ اﷲَ مُخْلِصًا لَّهُ الدِّيْنَO اَلاَِﷲِ الدِّيْنُ الْخَالِصُO

 الزمر، 39 : 2، 3

’’اللہ کی عبادت کرو، صرف اس کے بندے ہو کر، ہاں خالص اللہ ہی کی بندگی ہے۔‘‘

اس آیت کریمہ میں انسان کو عبادت کا حکم دیا جا رہا ہے اور عبادت تو ظاہر ہے اللہ ہی کے لئے ہوتی ہے لیکن اس میں جو بات اہمیت رکھتی ہے یہ ہے کہ اس کی عبادت کس حال کے ساتھ کی جائے۔ یہاں دو بار اخلاص یعنی مخلص اور خالص ہونے کا ذکر ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بندگی میں مخلص ہونا اور اللہ کے لئے اطاعت گزاری کو خالص کر لینا ہی اس کی عبادت میں اخلاص ہے اور عبادت جو انسانی زندگی کا مقصود ہے وہ اگر اخلاص سے خالی ہو گی تو اللہ تعالیٰ کے ہاں قبولیت کا درجہ نہیں پا سکے گی۔ نیز انسان کے اعمال کی قبولیت اور رد کر دیئے جانے کا انحصار بھی اخلاص پرہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟