Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا حضور (ص) نے نجد کے بارے میں کوئی دعا کی؟

کیا حضور (ص) نے نجد کے بارے میں کوئی دعا کی؟

موضوع: متفرق مسائل

سوال پوچھنے والے کا نام: مبشر حسن       مقام: سعودی عرب

سوال نمبر 1568:
نجد کے بارے میں میں نے سنا ہے کہ آقا علیہ الصلوٰۃ‌ والسلام نے دعا نہیں کی۔ کیا یہ حقیقت ہے؟

جواب:

جی ہاں! یہ حقیقت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نجد کے لیے دعا نہیں فرمائی۔ صحیح بخاری کتاب الفتن میں اور اسی طرح دوسری کتب احادیث میں یہ حدیث پاک مذکور ہے۔ جو بہت معروف ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی، اے اللہ ہمارے لیے ہمارے شام میں برکت عطا فرما، اے اللہ ہمیں ہمارے یمن میں برکت عطا فرما، بعض لوگوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے نجد میں بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر دعا فرمائی، اے اللہ ہمارے لیے ہمارے شام میں برکت عطا فرما، اے اللہ ہمارے لیے ہمارے یمن میں برکت عطا فرما، بعض لوگوں نے پھر عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے نجد میں بھی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تیسری مرتبہ فرمایا، وہاں زلزلے اور فتنے ہوں گے اور شیطان کا سینگ وہیں سے نکلے گا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

تاریخ اشاعت: 2012-04-02


Your Comments