کسی کا سایہ (پرچھاواں) ہو جانے کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

سوال نمبر:1563
میری بچی 29 فروری کو پیدا ہوئی اور اس کا نام میں نے حریم مہک رکھا۔ پر اللہ پاک کی رضاء سے وہ 10 مارچ کو فوت ہو گئی۔ میری بچی کو جب پہلہ غسل دیا گیا تو ہمارے خاندان کی بزرگ خواتین نے جوان لڑکیوں کو میری بچی اور میری بیوی کے قریب جانے سے منع کر دیا کہ وہ میری بچی کی لاش اور میری بیوی کے پاس مت جائیں کہ سایہ ہو جائے گا۔ (پرچھاواں ہو جانا) میرا سوال یہ ہے کہ اس کی کیا حقیقت ہے؟ کیا شریعت میں ایسا کچھ ہے اگر ہے تو کیوں؟

  • سائل: طلعت محمود قریشیمقام: پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 02 اپریل 2012ء

زمرہ: دم، درود اور تعویذ

جواب:

یہ صرف وہم ہے، اس کی کوئی شرعی حیثیت نہیں ہے۔ یہ لوگوں کی جاہلانہ سوچ اور رسوم و رواج کی وجہ سے ہے۔ کسی قسم کا کوئی سایہ وغیرہ نہیں ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟