Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - برے خیالات سے بچنے کا طریقہ کیا ہے؟

برے خیالات سے بچنے کا طریقہ کیا ہے؟

موضوع: روحانیات  |  متفرق مسائل

سوال پوچھنے والے کا نام: نا معلوم       مقام: نا معلوم

سوال نمبر 1534:
السلام علیکم میں بہت پریشان ہوں، ایک سال ہو گیا ہے میرے ذہن میں گندے گندے خیالات آتے ہیں، قرآن پڑھتے ہوئے بھی اور نماز میں بھی۔ پتہ نہیں میری توبہ قبول بھی ہوگی یا نہیں، مجھے قبر کے عذاب سے بہت ڈر لگتا ہے۔ میں‌ ذکر اذکار بھی کرتا ہوں مگر تسلی نہیں ہوتی۔

جواب:

قرآن مجید کی تلاوت کرتے وقت آیات کا ترجمہ پڑھا کریں، غور و فکر کیا کریں، جونہی کوئی برا خیال دل میں آئے اسی وقت اللہ تعالی سے شیطان کے شر سے پناہ مانگا کریں، فرائض و واجبات کی پابندی کریں۔ کثرت کے ساتھ توبہ واستغفار کریں، کثرت سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود وسلام پڑھا کریں۔ نیک لوگوں کی صحبت اور مجلس میں بیٹھا کریں۔ اپنے آپ کو کسی کام میں مشغول رکھیں، فارغ نہ بیٹھا کریں، توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔ اللہ تعالی کے پاس جو بھی اخلاص اور نیک نیتی سے توبہ کرتا ہے، اللہ تعالی اس کی توبہ ضرور قبول فرماتا ہے۔

دوسری بات یہ کہ صرف خیالات آنے سے انسان گنہگار نہیں ہوتا، وسوسے اور خیالات اس وقت تک معاف ہوتے ہیں، جب تک ان پر عمل نہ کیا جائے، لہذا آپ پریشان نہ ہوں، اپنے آپ کو مصروف رکھا کریں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2012-03-14


Your Comments