Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا معاملہ قتل میں صرف قاتل مجرم ہوگا یا مکمل ساز باز کرنے والے؟

کیا معاملہ قتل میں صرف قاتل مجرم ہوگا یا مکمل ساز باز کرنے والے؟

موضوع: معاملات  |  دیت

سوال پوچھنے والے کا نام: ثاقب محمود       مقام: نامعلوم

سوال نمبر 1506:
ہمارے گاؤں میں ایک خاندان کی ایک لڑکی گھر سے کسی غیر محرم کے ساتھ بھاگ گی۔ تقریباٴ ایک ہفتہ کے بعد خاندان والوں نے اسے ڈھونڈ لیا۔ پتہ چلا کہ جس کے ساتھ وہ لڑکی بھاگ کر گئ وہ لڑکا لڑکیوں کو بہکا کر لے جاتا اور اپنی بہن کے ساتھ مل کر لڑکیوں کی عزت فروشی کا بزنس کرتا تھا۔ جب لڑکی کے خاندان والے لڑکی کو گھر واپس لے آے تو لڑکی نے دوبارہ بھاگنے کی کوشش کی۔ جس کی وجہ سے خاندان کے سربراہ نے لڑکی کو بہت مارا۔ لیکن لڑکی اس کے باوجود یہ کہتی رہی کہ وہ بھاگ جائے گی۔ اس کے بعد لڑکی نے لڑکے کے ساتھ فون پر چوری،چوری رابطہ کیا۔ رابطے کا خاندان والوں کو پتہ چل گیا۔ جس کی وجہ سے خاندان والوں نے اس کو قتل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ اب ان میں سے تین شخص گے اور اس لڑکی کو قتل کر دیا۔ میرا سوال یہ ہےکہ جو خاندان والوں نے فیصلہ کیا۔ کیا وہ درست تھا؟ اور اگر فیصلہ درست نہیں تو قتل کے مجرم تمام فیصلہ کرنے والے ہیں یا صرف تین شخص جنہوں نے جا کر قتل کیا؟ اور اگر قتل کرنے والے لڑکی کے والدین کو دیت دینا چاہیے تو دیت کی رقم رپیوں میں کتنی ہو گی؟ ایک بات کی وضاحت کر دوں کہ قتل کے فیصلہ میں لڑکی کے والدین شامل نہ تھے۔

جواب:

خاندان والوں نے لڑکی کو قتل کرنے کا جو فیصلہ کیا وہ غلط تھا۔ قتل کا فیصلہ کرنے والے بھی مجرم اور گنہگار ہیں اور قاتل بھی۔ اگر قتل ان تین لوگوں سے ثابت ہو جائے تو ان تینوں سے قصاص لیا جائے گا۔ اگر لڑکی کے ورثاء دیت لینا چاہیں تو یہ تین لوگ جو قاتل ہیں دیت ادا کریں گے جو سو اونٹ ہے۔ یا سو اونٹوں کی مقدار میں جتنے روپے بنیں گے وہ تینوں ادا کریں گے اور باقی سب لوگ جو فیصلہ کرنے والے ہیں عدالت ان کو جو چاہے تعزیرا سزا دے گی جو بھی ان کے جرم کے مطابق بنے گی۔

جتنے بھی لوگ اس قتل میں ملوث ہیں سارے گنہگار ہیں۔ اس قتل کے بارے میں مشورہ کرنے والے، تعاون کرنے والے، قتل کرنے کا فیصلہ کرنے والے سب اللہ کے ہاں مجرم ہیں اور ان سے اس بارے میں پوچھا جائے گا۔ اور عدالت ان سب کو ان کے جرم کے مطابق ان کے جرم کے حساب سے ان کو سزا دے گی۔ اور قتل ثابت ہونے کی صورت میں تینوں قاتلوں سے قصاص لیا جائے گا۔ اور اگر مقتولہ کے ورثاء دیت لینا چاہیں تو یہ دیت ادا کریں گے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

تاریخ اشاعت: 2012-04-02


Your Comments