Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا بغیر دیکھے کوئی چیز خریدنا جائز ہے؟

کیا بغیر دیکھے کوئی چیز خریدنا جائز ہے؟

موضوع: خریدو فروخت (بیع و شراء، تجارت)   |  بیع سلم   |  بیع سلم کی شرائط   |  بیع سلم کی صورتیں

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد قربان       مقام: لاہور

سوال نمبر 1461:
کیا بغیر دیکھے کوئی چیز خریدنا جائز ہے؟

جواب:

ہر وہ چیز جس کی صفت بتائی جا سکے اور اس کی مقدار کی معرفت ممکن ہو، اس کی خرید و فروخت جائز ہے۔ بغیر دیکھے کوئی چیز خریدنا جائز ہے، یہ اس صورت میں ہے کہ جس چیز کو خریدنا ہو اس کی صفات، مقدار اور وزن معلوم ہو۔ اس کی صفات ایسے واضح ہوں۔ گویا کہ خریدنے والا اس چیز کو دیکھ رہا ہوتو ایسی صورت میں جائز ہے۔ مثلا اگر کوئی شخص جوتا بنواتا ہے تو بنانے والا اس کو جوتے کی ساری صفات بتا دے گا، چمڑا وہ دیکھ رہا ہو گا، جوتے میں کتنا چمڑا لگتا ہے، سب کچھ واضح کر دے گا لیکن جوتا حقیقتا اس کے پاس نہیں ہو گا، اس کو بیع سلم کہتے ہیں۔ جس میں قیمت پہلے ادا کی جاتی ہےاور چیز بعد میں لی جاتی ہے۔ اس طرح کی بیع جائز ہےلیکن شرط یہ ہےکہ جو چیز خریدی جا رہی ہو اس کی مقدار، وزن اور وقت کی ادائیگی مقرر ہو حدیث شریف میں ہے۔

من اسلف فی شیء ففی کيل معلوم و وزن معلوم الی اجل معلوم.

(بخاری)

جو شخص قیمت پہلے وصول کرے تو مبیع (جو خریدی جا رہی ہو) کی مقدار، وزن اور وقت ادائیگی مقرر ہونا چاہیے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

تاریخ اشاعت: 2012-02-27


Your Comments