روحانی تربیت کے لئے کس سے رہنمائی حاصل کی جائے؟

سوال نمبر:146
روحانی تربیت کے لئے کس سے رہنمائی حاصل کی جائے؟

  • تاریخ اشاعت: 21 جنوری 2011ء

زمرہ: عقائد  |  روحانیات  |  روحانیات

جواب:

روحانی تربیت وہی شخصیت کر سکتی ہے جس کے اندر ضروری شرائط اور اوصاف بدرجہ کمال پائے جائیں۔

اگر یہ اوصاف و شرائط کسی ہستی میں نہ پائے جائیں تو اس سے روحانی تعلق قائم کرنا سرے سے جائز ہی نہیں بلکہ حرام ہے یا دوسری صورت میں اگر شیخ اور مربی میں بعض شرائط پائی جائیں تو بیعت جائز تو ہو جائے گی لیکن اس بیعت سے کچھ فائدہ میسر نہیں آئے گا، بیعت اصل میں وہی ہے جو شرعاً جائز اور روحانی اعتبار سے فائدے اور ترقی کا باعث بھی ہو۔ روحانی تربیت کرنے والے میں درج ذیل گیارہ شرائط کا پایا جانا ضروری ہے۔

پہلی شرط : شیخ صاحبِ علم و معرفت ہو۔

دوسری شرط : وہ صاحبِ ورع اور صاحبِ تقویٰ ہو۔

تیسری شرط : وہ منکرات اور شبہات سے سختی سے بچنے والا، عبادت گزار اور صاحبِ مجاہدہ ہو۔

چوتھی شرط : وہ صاحبِ حسن خلق اور نہایت خوش اخلاق ہو۔

پانچویں شرط : وہ صاحبِ اخلاص اور صاحبِ استغناء ہو یعنی اس کا دل دنیاوی مفاد سے بے نیاز ہو۔

چھٹی شرط : وہ اپنے مریدین پر حد درجہ مہربان اور شفیق ہو اور ان سے اولاد جیسا برتاؤ کرے۔

ساتویں شرط : وہ صاحبِ حکمت و بصیرت ہو، مریدوں کو ان کے حسب حال ان کے ظرف، ان کے ظاہر و باطن کے احوال اور ان کی تربیت کے تقاضوں کے پیش نظر ملتا ہو۔

آٹھویں شرط : وہ صاحب ہدایت، صاحبِ ارشاد اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا پابند ہو جو مریدوں کو اچھائی کا حکم دے اور برائی سے روکے۔

نویں شرط : وہ کامل النّسبت ہو۔

دسویں شرط : وہ کامل الطریقت ہو۔

گیارہویں شرط : وہ کامل التوجہ ہو۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟