کیا مسلمان عورت کا جانور ذبح کرنا درست ہے؟

سوال نمبر:1430
کیا مسلمان عورت کا جانور ذبح کرنا درست ہے؟ میں نے اس بارے میں پڑھا ہے. اکثر جگہوں پر اس بارے میں بتایا گیا کہ اس میں کوئی ممانعت نہیں مگر ہمارے ہاں یعنی گاوں میں یہ نظریہ عام ہے کہ عورت کا جانور ذبح کرنا عام حالات میں درست نہیں اگر کوئی مرد گھر میں موجود نہ ہو اور جانور مرنے والا ہو تو جانور کو حرام ہونے سے بچانے کے لئے عورت ذبح کر سکتی ہے اور اگر گھر میں کوئی ناسمجھ کم عمر لڑکا موجود ہو تو عورت کو چھری پر اس کا ہاتھ رکھوانا چاہیے. اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟

  • سائل: محمد ہارون ارشدمقام: ملتان
  • تاریخ اشاعت: 15 فروری 2012ء

زمرہ: ذبح کے احکام

جواب:

مسلمان عورت کا جانور ذبح کرنا درست ہے، اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے۔ چاہے مرد گھر میں موجود ہو یا نہ ہو۔ ہر صورت میں عورت جانور ذبح کر سکتی ہے۔ باقی ہمارے معاشرے میں اسلام سے دوری کی وجہ سے، غلط قسم کی رسومات رواج پا گئی ہیں۔ جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے، اور نہ ہی اس چیز کی ضرورت ہے کہ بچہ چھری پر ہاتھ رکھے۔ اسلام کی تعلیمات میں ایسا کچھ بھی نہیں۔ عورت، مرد کی طرح جب چاہے جانور ذبح کر سکتی ہے۔ چاہے مرد موجود ہو یا نہ ہو، شرعی طور پر عورت کے جانور ذبح کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟