Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - ان پانچ بنیادی تقاضوں پر قرآنی استدلال قائم کریں؟

ان پانچ بنیادی تقاضوں پر قرآنی استدلال قائم کریں؟

موضوع: روحانیات  |  روحانیات

سوال نمبر 135:
ان پانچ بنیادی تقاضوں پر قرآنی استدلال قائم کریں؟

جواب:

صوفیائے کرام کے نزدیک یہ آداب تصوف و احسان اس قرآنی آیت سے ماخوذ ہیں :

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّهَ وَابْتَغُواْ إِلَيهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُواْ فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَO

’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو اور اس تک پہنچنے کا وسیلہ تلاش کرو۔ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔‘‘

 المآئدة، 5 : 35

اس آیت کریمہ میں چار چیزوں کا بیان ہے :

ایمان، تقویٰ، وسیلہ اور جہاد۔ ان کا نتیجہ فلاح و کامیابی ہے۔

1۔ ایمان میں حصول علم اور اطاعت حق کی طرف اشارہ ملتا ہے۔

2۔ تقویٰ میں احکام الٰہی کی پابندی میں محنت و ریاضت کی طرف اشارہ ملتا ہے۔

3۔ ابتغائے وسیلہ میں شیخ کی بیعت و ارادت کی طرف اشارہ ملتا ہے۔

4۔ اور جہاد آخری تین آداب پر مشتمل ہے جسے حدیث نے جہاد بالنفس اور جہاد اکبر سے تعبیر کیا ہے۔

لعلکم تفلحون اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ ان آداب و ضوابط کے بغیر سالک کے لئے فلاح کا دوسرا راستہ نہیں ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔


Your Comments