اونی، سوتی اور دیگر کپڑے کی جرابوں پر مسح کرنا کیسا ہے؟

سوال نمبر:1345
ہمارے چند دوست اونی، سوتی اور کپڑے وغیرہ کے جرابوں پر مسح کے قائل ہیں اور امام ابو حنیفہ کے بارے میں بھی فرماتے ہیں کہ اُنہوں نے آخر میں اپنے قول سے رجوع کیا تھا کہ صرف چمڑے کے موزوں پر مسح جائز ہے۔ مہربانی کر کے قرآن اور حدیث کی روشنی میں راہنمائی کریں۔

  • سائل: ثاقب جانمقام: پشاور، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 05 جنوری 2012ء

زمرہ: طہارت   |  وضوء   |  مسح

جواب:

اونی، سوتی اور دیگر کپڑے کی جرابوں پر مسح کرنا جائز نہیں ہے، کیونکہ نہ وہ مجلد (یعنی ٹخنوں تک چمڑے سے منڈھے ہوئے) ہیں، نہ منعل (یعنی تلاء چمڑے کا لگا ہوا ہے) اور نہ وہ ایسی ہیں جنہیں پہن کر پیدل چلیں تو پھٹ جائیں اور اگر ان پر پانی پڑے تو فوراً پاؤں تک چلا جائے، لہذا ان پر مسح کرنا جائز نہیں ہے، یہی احناف کا مذہب ہے۔ فقہ حنفی کی سب کتابوں میں امام صاحب کا یہی موقف ہے۔

(فتاوی رضویہ، مختصر القدوری، رد المختار)

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟