Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - عورتوں کا پینٹ شرٹ پہننا کیسا ہے؟

عورتوں کا پینٹ شرٹ پہننا کیسا ہے؟

موضوع: عورت کے احکام   |  متفرق مسائل

سوال پوچھنے والے کا نام: نازیہ       مقام: لندن

سوال نمبر 1332:
السلام علیکم جیسا کہ آج کل کا ماحول ہے کہ عورتیں پینٹ شرٹ پہن لیتی ہیں۔ تو میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ اسلام میں اس کی اجازت ہے کیا؟ کہ ایک مسلم عورت پینٹ شرٹ پہن سکتی ہے یا نہیں؟

جواب:

قرآن و حدیث کی رو سے لباس کی جو تعریف کی گئی ہے اور جیسا لباس زیب تن کرنے کا حکم دیا گیا ہے وہ یہ ہے کہ ایسا مہذب، خوبصورت، کشادہ اور کھلا لباس جس سے انسان کا ستر ڈھانپا جا سکے۔ اسلام میں عورت کا سارا جسم سر سے پاؤں تک (سوائے چہرہ، ہاتھ اور پاؤں) ستر ہے، جس کا ڈھانپنا فرض ہے۔ لہذا ایسا لباس پہنے جو مہذب اور کشادہ ہو۔ جو نہ تو باریک ہو جس سے جسم نظر آئے اور نہ اتنا تنگ کہ جس سے اعضاء کی بناوٹ واضح ہوتی ہو۔ لباس کا مقصد ہی یہی ہے کہ انسانی اعضاء نظر نہ آئیں، اور یہ صرف عورتوں کے لیے نہیں بلکہ، مرد اور عورت دونوں کے لیے ہے۔

اسلام میں چونکہ لباس کی تخصیص نہیں ہے کہ وہ کونسا لباس پہنیں؟ البتہ لباس کی شکل، ہئیت اور خدوخال بتا دیئے گئے کہ وہ کشادہ، کھلا اور ستر کو ڈھانپنے والا ہو۔ اب چاہے کوئی جینز، پتلون یا شلوار پہن کر اپنے ستر کو ڈھانپ لے یا پاجامہ وغیرہ ہے۔ مقصود ستر ڈھانپنا ہے۔ مگر شرط یہی ہے کہ وہ لباس کھلا ہو، تنگ نہ ہو، جس سے جسم کے اعضاء کی بناوٹ واضح ہو۔ جینز اور پتلون پر شرٹ اتنی لمبی ہونی چاہیے جو ستر کو اچھی طرح سے ڈھانپ دے۔ تنگ لباس، چاہے وہ جینز ہو، شلوار ہو یا کوئی اور چیز جس سے مقصود حاصل نہ ہو وہ حرام ہے، اور اس کا پہننا جائز نہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

تاریخ اشاعت: 2012-01-12


Your Comments