مسلم اور مسیحی کی شادی کی صورت میں ان کے بچے کیا کہلائیں گے؟

سوال نمبر:1329
ایک لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کو پسند کرتے ہیں، لڑکا مسلمان ہے اور لڑکی عیسائی ہے، کیا ان دونوں کی شادی ہو سکتی ہے؟ لڑکی مسلمان بھی نہیں‌ ہونا چاہتی، ایسی صورت میں شادی کس طرح ہو گی؟ مسلم طریقے سے یا کرسچن طریقے سے؟ اور اگر شادی جائز ہے تو ان کے بچے کیا ہوں گے؟ مسلم یا کرسچن؟

  • سائل: ثاقب ریاضمقام: گجرات
  • تاریخ اشاعت: 09 جنوری 2012ء

زمرہ: اہل کتاب اور کافرہ سے نکاح

جواب:

شریعت نے مسلمانوں کو اہل کتاب، عیسائی اور یہودی عورتوں سے شادی کی اجازت دی ہے۔ اس وجہ سے کہ مرد عورت پر غالب ہوتے ہیں، ان سے قوی ہوتے ہیں، اور مرد عورت کو آسانی سے اسلام کی طرف رغبت دلا سکتا ہے۔ اگر یقین ہو کہ عورت مسلمان نہیں ہوگی تو بہتر ہے کہ وہ ایسی عورت سے شادی نہ کرے، کیونکہ مستقبل میں آپ کی اولاد پر اس کے اثرات پڑیں گے۔ آپ کا نسب خراب ہو سکتا ہے۔

دوسرا یہ کہ عیسائی لڑکی سے شادی کرنے سے کسی مسلمان لڑکی کا حق مارا جاتا ہے اور مسلمان سے شادی کرنا ہر لحاظ سے عیسائی سے بہتر اور افضل ہے۔ شادی عدالت میں بھی کر سکتے ہیں اور گھر میں بھی، دونوں طریقوں سے جائز ہے۔ ایسی شادی سے پیدا ہونے والے بچے مسلمان ہی کہلائیں گے، کیونکہ نسب ہمیشہ مرد سے ہوتا ہے اور مرد مسلمان ہے تو اس کے نسب سے تعلق رکھنے والی اولاد بھی مسلمان ہوگی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟