کیا میلادِ مسیح علیہ السلام کی مبارکباد دینے کیلئے میری کرسمس کہنا جائز ہے؟

سوال نمبر:1324
کیا کسی مسیحی کو میلادِ مسیح علیہ السلام کی مبارکباد دینے کیلئے میری کرسمس کہنا جائز ہے؟

  • سائل: محسن ندیممقام: الریاض۔ سعودیہ عریبہ
  • تاریخ اشاعت: 02 جنوری 2012ء

زمرہ: عصمت انبیاء علیہم السلام

جواب:

میری کرسمس (Merry Christmas) انگریزی زبان کے الفاظ ہیں جو حضرت مسیح علیہ السلام کی ولادت کی مبارکباد دینے کیلئے مسیحیوں میں رائج ہیں۔ یہ دو لفظوں ’میری‘ اور ’کرسمس‘ کا مجموعہ ہے۔ ’میری‘ (Merry) کا لفظی معنیٰ ہے مسرت، خوشی، مبارک وغیرہ اور کرسمس (Christmas) پرانی انگریزی اصطلاح کرائسٹ ماسز (Cristes Maesse) سے ماخوذ ہے، کرائسٹ کا معنیٰ ہے مسیح یا مس کیا ہوا، چُنا ہوا، جبکہ ماسز کا مطلب ہے آمد، گویا کرسمس کا لفظی معنیٰ ہوا مسیح کی آمد یا مسیح کی پیدائش وغیرہ۔

Merriam-Webster. (n.d.). Merry. In Merriam-Webster.com dictionary. Retrieved December 30, 2022, from https://www.merriam-webster.com/dictionary/merry

دنیا بھر میں بسنے والے مسیحی بالخصوص یورپ اور شمالی و جنوبی امریکہ کے مسیحی حضرت مسیح ابن مریم کی پیدائش کا تہوار یعنی کرسمس مذہبی و ثقافتی رسم کے طور پر مناتے ہیں۔ کرسمس کی تقریبات اگرچہ ابتداً مذہبی فکر کے ساتھ شروع کی گئیں تھیں مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ تہوار مذہبی سے زیادہ معاشرتی جشن بن گیا ہے۔ یورپ و امریکہ کے ملکوں میں کرسمس کے ایام میں چھٹیاں ہو جاتی ہیں، لوگ اپنے دوستوں اور خاندان کے ساتھ تحائف کا تبادلہ کرتے ہیں اور مختلف روایات اور سرگرمیوں میں حصہ لینے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں۔ کرسمس کا یہ تہوار اُن اقوام کیلئے ثقافتی جشن اور سماجی خوشی کا موقع بن گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انگریزی ڈکشنری آکسفورڈ نے ’میری کرسمس‘ کا مفہوم یوں بیان کیا ہے:

Merry Christmas used at Christmas to say that you hope that somebody has a pleasant holiday.

“Merry Christmas,” n.d. https://www.oxfordlearnersdictionaries.com/definition/english/merry?q=Merry+Christmas.

’میری کرسمس‘ کے الفاظ کا استعمال کرسمس کے موقع پر یہ کہنے کیلئے کیا جاتا ہے کہ مجھے امید ہے کہ کسی (جس کو کہا جار رہا ہے اُس) کی چھٹی خوشگوار گزرے۔

اسی طرح ’مریم ویبسٹر‘ میں ’میری کرسمس‘ کی تعریف اس طرح کی ہے کہ:

Merry Christmas (idiom): Used to wish someone an enjoyable Christmas holiday.

“Merry Christmas.” Merriam-Webster.com Dictionary, Merriam-Webster, https://www.merriam-webster.com/dictionary/Merry%20Christmas. Accessed 27 Dec. 2022.

میری کرسمس (محاورہ): کسی کی کرسمس کی چھٹیاں خوشگوار گزرنے کی تمنا یا آرزو کے اظہار کیلئے استعمال ہونے والا محاورہ۔

گویا میری کرسمس کا لفظ کسی عقیدے کے اظہار یا مذہبی نعرہ کی بجائے کرسمس کی چھٹیوں یا موسمِ سرما کی تعطیلات کی مبارکباد کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ خاص طور پر 25 دسمبر کے دن، جو کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش کی یاد کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اسی طرح کرسمس کے ایام میں کسی کے عقیدہ یا ثقافتی پس منظر سے قطع نظر کسی کو ہیلو یا الوداع کہنے یا نیک خواہشات کے اظہار یا چھٹیوں کے موسم کی مبارکباد دینے کیلئے ’میری کرسمس‘ کا لفظ بولا جاتا ہے۔ لسانی اعتبار سے سماجی مفہوم میں میری کرسمس کا مفہوم کس طور بھی ’خدا نے بیٹا جنا‘ نہیں ہے۔ مسیحی لوگ حضرت مسیح علیہ السلام کیلئے ابنیتِ خدا کا کفریہ عقیدہ رکھتے ہیں، قرآن نے اُن کا نام لیکر اِس کفریہ عقیدے کا رد بھی کیا ہے مگر ’میری کرسمس‘ کے لفظ میں اس عقیدے کا اظہار کا مقصود نہیں ہوتا۔

اس میں شک نہیں کہ مسیحی حضرت مسیح ابنِ مریم علیہما السلام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے، چنیدہ پیغمبر اور کلمۃ اللہ ہیں۔ قرآنِ مجید میں آپ کی معجزانہ پیدائش کا تفصیلی ذکر آیا ہے۔ سورۂ مریم کا ایک مکمل رکوع میلاد نامۂ عیسیٰ علیہ السلام پر مشتمل ہے جس میں ان کی ولادت سے قبل ان کی والدہ ماجدہ کو بیٹے کی خوش خبری دی گئی۔ اس کی تفصیل قرآن مجید یوں بیان کرتا ہے:

إِذْ قَالَتِ الْمَلآئِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَO وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلاً وَمِنَ الصَّالِحِينَO قَالَتْ رَبِّ أَنَّى يَكُونُ لِي وَلَدٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ قَالَ كَذَلِكِ اللّهُ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ إِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُO

آل عمران، 3: 45-47

’’جب فرشتوں نے کہا : اے مریم! بے شک اللہ تمہیں اپنے پاس سے ایک کلمۂ (خاص) کی بشارت دیتا ہے جس کا نام مسیح عیسیٰ بن مریم ہوگا، وہ دنیا اور آخرت (دونوں) میں قدر و منزلت والا ہوگا اور اللہ کے خاص قربت یافتہ بندوں میں سے ہوگا۔ اور وہ لوگوں سے گہوارے میں اور پختہ عمر میں (یکساں) گفتگو کرے گا اور وہ (اللہ کے) نیکوکار بندوں میں سے ہوگا۔ (مریم نے) عرض کیا : اے میرے رب! میرے ہاں کیسے لڑکا ہوگا درآنحالیکہ مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ تک نہیں لگایا! ارشاد ہوا : اسی طرح اللہ جو چاہتا ہے پیدا فرماتا ہے، جب کسی کام (کے کرنے) کا فیصلہ فرما لیتا ہے تو اس سے فقط اتنا فرماتا ہے کہ ’ہو جا‘ وہ ہوجاتا ہے۔‘‘

اس کے بعد تفصیل سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت کا ذکر کرتے ہوئے حسبِ سابق چھوٹی چھوٹی جزئیات بھی بیان ہوئیں کہ کس طرح جبرئیل امین علیہ السلام آئے اور انہوں نے روح پھونکی اور حضرت مریم علیھا السلام اُمید سے ہوئیں۔ وضعِ حمل کے وقت حضرت مریم علیھا السلام کو تکلیف ہوئی، قرآن کریم نے ان کی اس تکلیف کا بھی ذکر کیا اور بہ تقاضائے نسوانیت ان کا شرمانا بھی بیان فرمایا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے جب وہ خلوت گزیں ہوگئیں تو اس کا بھی ذکر کیا۔ پھر یہ بیان کیا کہ کس طرح تکلیف کو رفع کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے چشمے کا شیریں پانی مہیا کیا، تازہ کھجوریں دیں جن کے کھانے سے تکلیف دور ہو گئی۔ عین لمحۂ ولادت کا ذکر کیا۔ ولادت کے بعد جب وہ نومولود کو اٹھا کر اپنی قوم کے پاس لے گئیں اور انہوں نے طعنے دیئے، ان طعنوں کا ذکر کیا اور طعن و تشنیع کے جواب میں پنگھوڑے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کلام کرنے کا ذکر کیا۔ یہ سارے اَحوال اللہ رب العزت نے یوں بیان فرمائے ہیں :

وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ مَرْيَمَ إِذِ انتَبَذَتْ مِنْ أَهْلِهَا مَكَانًا شَرْقِيًّاO فَاتَّخَذَتْ مِن دُونِهِمْ حِجَابًا فَأَرْسَلْنَا إِلَيْهَا رُوحَنَا فَتَمَثَّلَ لَهَا بَشَرًا سَوِيًّاO قَالَتْ إِنِّي أَعُوذُ بِالرَّحْمَنِ مِنكَ إِن كُنتَ تَقِيًّاO قَالَ إِنَّمَا أَنَا رَسُولُ رَبِّكِ لِأَهَبَ لَكِ غُلاَمًا زَكِيًّاO قَالَتْ أَنَّى يَكُونُ لِي غُلاَمٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ وَلَمْ أَكُ بَغِيًّاO قَالَ كَذَلِكِ قَالَ رَبُّكِ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً لِّلنَّاسِ وَرَحْمَةً مِّنَّا وَكَانَ أَمْرًا مَّقْضِيًّاO فَحَمَلَتْهُ فَانتَبَذَتْ بِهِ مَكَانًا قَصِيًّاO فَأَجَاءَهَا الْمَخَاضُ إِلَى جِذْعِ النَّخْلَةِ قَالَتْ يَا لَيْتَنِي مِتُّ قَبْلَ هَذَا وَكُنتُ نَسْيًا مَّنسِيًّاO فَنَادَاهَا مِن تَحْتِهَا أَلاَّ تَحْزَنِي قَدْ جَعَلَ رَبُّكِ تَحْتَكِ سَرِيًّاO وَهُزِّي إِلَيْكِ بِجِذْعِ النَّخْلَةِ تُسَاقِطْ عَلَيْكِ رُطَبًا جَنِيًّاO فَكُلِي وَاشْرَبِي وَقَرِّي عَيْنًا فَإِمَّا تَرَيِنَّ مِنَ الْبَشَرِ أَحَدًا فَقُولِي إِنِّي نَذَرْتُ لِلرَّحْمَنِ صَوْمًا فَلَنْ أُكَلِّمَ الْيَوْمَ إِنسِيًّاO فَأَتَتْ بِهِ قَوْمَهَا تَحْمِلُهُ قَالُواْ يَا مَرْيَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّاO يَا أُخْتَ هَارُونَ مَا كَانَ أَبُوكِ امْرَأَ سَوْءٍ وَمَا كَانَتْ أُمُّكِ بَغِيًّاO فَأَشَارَتْ إِلَيْهِ قَالُوا كَيْفَ نُكَلِّمُ مَن كَانَ فِي الْمَهْدِ صَبِيًّاO قَالَ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّاO وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا أَيْنَ مَا كُنتُ وَأَوْصَانِي بِالصَّلاَةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّاO وَبَرًّا بِوَالِدَتِي وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا شَقِيًّاO وَالسَّلاَمُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدتُّ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّاO ذَلِكَ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ قَوْلَ الْحَقِّ الَّذِي فِيهِ يَمْتَرُونَO مَا كَانَ لِلَّهِ أَن يَتَّخِذَ مِن وَلَدٍ سُبْحَانَهُ إِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُO

مريم، 19: 16-35

’’اور (اے حبیبِ مکرم!) آپ کتاب (قرآن مجید) میں مریم کا ذکر کیجئے جب وہ اپنے گھر والوں سے الگ ہو کر (عبادت کے لیے خلوت اختیار کرتے ہوئے) مشرقی مکان میں آگئیں۔ پس انہوں نے ان (گھر والوں اور لوگوں) کی طرف سے حجاب اختیار کر لیا (تاکہ حسنِ مطلق اپنا حجاب اٹھا دے) تو ہم نے ان کی طرف اپنی روح (یعنی فرشتہ جبرئیل) کو بھیجا، سو جبرئیل ان کے سامنے مکمل بشری صورت میں ظاہر ہوا۔ (مریم نے) کہا : بے شک میں تجھ سے (خدائے) رحمان کی پناہ مانگتی ہوں اگر تو (اللہ) سے ڈرنے والا ہے۔ (جبرئیل نے) کہا : میں تو فقط تیرے رب کا بھیجا ہوا ہوں (اس لیے آیا ہوں) کہ میں تجھے ایک پاکیزہ بیٹا عطا کروں۔ (مریم نے) کہا : میرے ہاں لڑکا کیسے ہوسکتا ہے جب کہ مجھے کسی انسان نے چھوا تک نہیں اور نہ ہی میں بدکار ہوں۔ (جبرئیل نے) کہا : (تعجب نہ کر) ایسے ہی ہوگا، تیرے رب نے فرمایا ہے : یہ (کام) مجھ پر آسان ہے، اور (یہ اس لیے ہوگا) تاکہ ہم اسے لوگوں کے لیے نشانی اور اپنی جانب سے رحمت بنا دیں اور یہ امر (پہلے سے) طے شدہ ہے۔ پس مریم نے اسے پیٹ میں لے لیا اور (آبادی سے) الگ ہو کر دور ایک مقام پر جا بیٹھیں۔ پھر دردِ زہ انہیں ایک کھجور کے تنے کی طرف لے آیا وہ (پریشانی کے عالم میں) کہنے لگیں : اے کاش! میں پہلے سے مرگئی ہوتی اور بالکل بھولی بسری ہو چکی ہوتی۔ پھر ان کے نیچے کی جانب سے (جبرئیل نے یا خود عیسیٰ نے) انہیں آواز دی کہ تو رنجیدہ نہ ہو، بے شک تمہارے رب نے تمہارے نیچے ایک چشمہ جاری کر دیا ہے (یا تمہارے نیچے ایک عظیم المرتبہ انسان کو پیدا کر کے لٹا دیا ہے)۔ اور کھجور کے تنا کو اپنی طرف ہلاؤ وہ تم پر تازہ پکی ہوئی کھجوریں گرا دے گا۔ سو تم کھاؤ اور پیو اور (اپنے حسین و جمیل فرزند کو دیکھ کر) آنکھیں ٹھنڈی کرو، پھر اگرتم کسی بھی انسان کو دیکھو تو (اشارے سے) کہہ دینا کہ میں نے (خدائے) رحمان کے لیے (خاموشی کے) روزہ کی نذر مانی ہوئی ہے، سو میں آج کسی انسان سے قطعاً گفتگو نہیں کروں گی۔ پھر وہ اس (بچے) کو (گود میں) اٹھائے ہوئے اپنی قوم کے پاس آگئیں، وہ کہنے لگے : اے مریم! یقیناً تو بہت ہی عجیب چیز لائی ہے۔ اے ہارون کی بہن! نہ تیرا باپ برا آدمی تھا اور نہ ہی تیری ماں بدچلن تھی۔ تو مریم نے اس (بچے) کی طرف اشارہ کیا، وہ کہنے لگے : ہم اس سے کس طرح بات کریں جو (ابھی) گہوارہ میں بچہ ہے۔ (بچہ خود) بول پڑا : بے شک میں اللہ کا بندہ ہوں، اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی ہے اور مجھے نبی بنایا ہے۔ اور میں جہاں کہیں بھی رہوں اس نے مجھے سراپا برکت بنایا ہے اور میں جب تک بھی زندہ ہوں اس نے مجھے زکوٰۃ اور نماز کا حکم فرمایا ہے۔ اور اپنی والدہ کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا (بنایا ہے) اور اس نے مجھے سرکش و بدبخت نہیں بنایا۔ اور مجھ پر سلام ہو میرے میلاد کے دن اور میری وفات کے دن اور جس دن میں زندہ اٹھایا جاؤں گا۔ یہ مریم کے بیٹے عیسیٰ ہیں، (یہی) سچی بات ہے جس میں یہ لوگ شک کرتے ہیں۔ یہ اللہ کی شان نہیں کہ وہ (کسی کو اپنا) بیٹا بنائے، وہ (اس سے) پاک ہے جب وہ کسی کام کا فیصلہ فرماتا ہے تو اسے صرف یہی حکم دیتا ہے ’’ہو جا‘‘ پس وہ ہوجاتا ہے۔‘‘

قرآنِ مجید نے حضرت مسیح علیہ السلام کی معجزانہ پیدائش کا تفصیل کے ساتھ تذکرہ کیا ہے، اس کا یہ مطلب نہیں کہ مسلمانوں کرسمس کو مذہبی طور پر اپنانا شروع کر دیں۔ کرسمس مسیحیوں کا مذہبی تہوار ہے، مسلمان اگر کرسمس کی تقریب میں شریک ہوتے بھی ہیں تو محض جذبۂ خیر سگالی کے اظہار کے لیے شریک ہوسکتے ہیں، اور کرسمس کی مبارکباد کیلئے ’میری کرسمس‘ بھی کہہ سکتے ہیں لیکن کرسمس کو اسلامی تہوار کے طور پر منانا یا مسلمانوں کے لئے اس کا اہتمام کرنا جائز نہیں ہے۔

مزید مطالعہ کے لیے یہاں کلک کریں
کرسمس کا اہتمام اور اس میں شرکت

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری