Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا نماز فجر کی سنتیں رہ جانے پر جماعت کے فوراً بعد ادا کی جا سکتی ہیں؟

کیا نماز فجر کی سنتیں رہ جانے پر جماعت کے فوراً بعد ادا کی جا سکتی ہیں؟

موضوع: نماز  |  فجر   |  نماز کی سنتیں   |  سنت   |  سنت مو کدہ

سوال پوچھنے والے کا نام: خالد محمود صابری       مقام: یو اے ای، شارجہ

سوال نمبر 1318:
نماز فجر کی سنت اگر جماعت کی وجہ سے نکل گئی اور اس کے بعد ڈیوٹی پر چلے گئے تو کیا جماعت کے فوراً بعد پڑھ سکتے ہیں؟ جیسا کہ شافعی حضرات کرتے ہیں؟

جواب:

نماز فجر کی دو سنتیں اگر فرض سے پہلے نہ پڑھ سکے تو ان کے ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ انہیں سورج طلوع ہونے کے تقریباً 20 منٹ بعد ادا کرے۔ فرض کے بعد انسان اپنی جگہ پر بیٹھا رہے، اللہ کا ذکر کرتا رہے۔ البتہ اگر کوئی کام ہے تو وہ اپنا کام کرے اور سورج طلوع ہونے کے بعد فجر کی سنتیں ادا کر لے۔ کیونکہ فجر کی نماز کے بعد کوئی نفل نماز جائز نہیں۔ یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے۔

ترمذی شریف میں حدیث موجود ہے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

من لم يصل رکعتی الفجر فليصلها بعد ما تطلع الشمس.

جو فجر کی دو رکعت کو ادا نہ کر سکا ہو تو طلوع آفتاب کے بعد ادا کرے۔

سنن النسائی میں حدیث ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ عصر کے بعد کوئی نماز نہیں ہے، یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے، اور نہ ہی صبح کی نماز کے بعد کوئی نماز ہے یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے۔

لہذا فجر کی سنتیں اگر رہ جائیں تو سورج طلوع ہونے کے بعد ادا کی جائیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2011-12-23


Your Comments