Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - ان شاء اللہ ملا کر لکھنا کیسا ہے؟

ان شاء اللہ ملا کر لکھنا کیسا ہے؟

موضوع: تلاوت‌ قرآن‌ مجید  |  متفرق مسائل

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد مختار اشرفی       مقام: کراچی ۔ پاکستان

سوال نمبر 1312:
السلام علیکم کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ انشاء اللہ ملا کر لکھنے سے معنی تبدیل ہو جاتے ہیں اگر تبدیل ہو جاتے ہیں تو کیا اس کو ملا کر لکھنا درست ہے یا نہیں‌ اگر درست نہیں‌تو اس کا کیا حکم ہے؟ براہ کرم مدلل جواب عنایت فرما کر مشکور فرمائیں

جواب:

ان شاء اللہ ملا کر "انشاء اللہ" لکھنا غلط ہے، "ان" اور "شاء" دو الگ الگ حروف ہیں، لہذا انہیں الگ الگ ہی لکھا جائے گا۔ اکھٹے لکھنے کی صورت میں معنی بدل جاتا ہے۔

ہر زبان کے کچھ قواعد ہوتے ہیں، قاعدہ ہے کہ ان اور شاء کو الگ رکھتے ہیں، یہ کتابت کا قاعدہ ہے، انشاء کا معنی ہے پیدا کرنا اور مصدر ہے، تخلیق کرنا۔ قرآن میں انشاکم، ینشئکم، کے الفاظ آئے ہیں، جن کا معنی ہے پیدا کرنا اور "ان" حروف شرط ہے اس کا معنی ہے، "اگر" ۔ "شاء" فعل ماضی ہے، اس کا معنی ہے اس نے چاہا۔ تو معنی ہوگا۔ اگر اس نے چاہا۔ انشاء مصدر کا معنی ہوا، پیدا کرنا۔ تو ایسا لکھنا غلط ہے، اس سے معنی بدل جاتے ہیں، جو جائز نہیں ہے۔

اردو میں انشاء کا اپنا معنی ہے اور عربی میں اپنا۔ لہذا الگ الگ ہی لکھا جائے گا۔ اردو اور عربی کے کلمات کو آپس میں ملانا جائز نہیں۔ اس سے معنی بدل جاتا ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2011-12-23


Your Comments