Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا حالت نشہ میں‌ طلاق واقع ہو جاتی ہے یا نہیں؟ اگرچہ نیت نہ ہو؟

کیا حالت نشہ میں‌ طلاق واقع ہو جاتی ہے یا نہیں؟ اگرچہ نیت نہ ہو؟

موضوع: نشہ آور اشیاء   |  طلاق

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد ندیم یونس       مقام: اوڈنس، ڈنمارک

سوال نمبر 1308:
محترم و مکرم، استاذ العلماء ، استاذی المکرم حضرت قبلہ مفتی عبدالقیوم صاحب ہزاروی دامت برکاتکم کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص(ذ) اور ایک عورت (ت۔ مسئولہ) کی 22 سال قبل شادی ہوئی۔ سارے معاملات معمول کے مطابق بہتر انداز میں چلتے رہے۔کچھ عرصہ قبل سے ان کے حالات کافی کشیدہ ہیں۔ مسئولہ کافی زیادہ پریشان اور متذبذب ہے۔سوال اسی کی زبانی پڑھیے۔ وہ اس سوال کا جواب فتوی کی صورت میں تحریری چاہتی ہے تاکہ اپنے خاوند اور فیملی کو سمجھا سکے۔ لہذا از کرم قبلہ مفتی صاحب کی مہر اور دستخظ کے ساتھ ای میل فرما دیں۔ 15سال پہلے میں سو رہی تھی کہ خاوند نشہ کی حالت میں رات کو گھر آیا اور جگا کر کہا کہ میں تجھے طلاق دیتا ہوں۔ نیند کے غلبہ کی وجہ سے یہ یاد نہیں رہا کہ کتنی دفعہ کہا جبکہ خود خاوند نے نشہ اترنے کے بعد اعتراف کیا کہ 2 دفعہ کہا تھا۔میرے والد نے کہا کہ رجوع کر لیں۔ میں نے تین مختلف مساجد میں فون کر کے ائمہ سے معلوم کیا تو دو اماموں نے کہا کہ طلاق ہوگئی محض رجوع کافی نہیں۔ جب کہ ایک نے کہا رجوع ہی کافی ہے۔ خاوند نے بھی تسلی دی کہ میری نیت طلاق کی ہر گز نہیں تھی۔ بہرحال ہم نے رجوع کر لیا۔ لیکن مجھے شک رہا۔ کچھ سالوں بعد پاکستان گئے تو ایک امام صاحب سے پوچھا (تفصیل اور اپنا شک بتایا) تو انہوں نے دوبارہ نکاح کروایا اور وارننگ دی کہ آئندہ طلاق کا اختیار مت استعمال کرنا۔ اس دوبارہ نکاح کے تقریبا تین سال بعد میں اپنی دکان پر تھی، خاوند نشہ کی حالت میں آیا۔ میں نے کہا آپ نے پھر نشہ کیا ہوا ہے۔ تو خاوند نے کہا میں تجھ پر لعنت بھیجتا ہوں۔ میں تجھے طلاق دیتا ہوں۔ میں تجھ ہزار مرتبہ طلاق دے چکا ہوں۔جب نشہ اترا خاوند نے قسمیں اٹھا ئیں کہ میری نیت طلاق کی نہیں تھی۔ میں نے شک اور تذبذب کے باوجود رجوع کر لیا۔ اس واقعہ کے تقریبا تین چار سال بعد ہم دونوں پاکستان گئے۔ میں نے اپنی نند کو سارے واقعات بتائے اور اپنے ذہنی الجھاؤ کی بات کی تو وہ مجھے کراچی میں ایک حکیم صاحب کے پاس لے گئی جنہوں نے پہلے کہا طلاق ہو گئی جب کہ کچھ دنوں بعد دوبارہ بلا کر کہا نہیں ہوئی۔ مجھے مزید الجھن ہوئی۔ خالہ ساس کو بتایا تو انہوں نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کی تقریر سنائی جس میں نائیک صاحب نے کہا کہ نشہ میں طلاق ہوتی ہی نہیں۔ میرا ذہن کسی حد تک ٹھہر گیا اور میں نے ان کی بات مان لی۔ ڈنمارک واپس آئے تو خاوند میرے شک کی وجہ سے مجھے بار بار تسلی دیتے رہے۔ کبھی حلالہ کا کہتے ، کبھی متعہ کا کہتے ۔ جس سے میرا شک مزید بڑھتا رہا کہ میرا خاوند بھی دل میں جانتا ہے کہ طلاق ہو چکی مگر زبان سے تسلیم نہیں کرتا۔ تاہم ہم دونوں میاں بیوی کی طرح اکٹھے رہتے رہے۔ ایک سال بعد پھر حالت نشہ میں گھر داخل ہوئے تو خاوند کے بھائی اور ان کی بیوی (میری بہن) بھی گھر میں موجود تھے میں نے ان سے شکایت کی کہ دیکھو یہ پھر نشہ کر کے آئے ہیں۔ خاوند نے کہا میں نے اگر نشہ نہیں چھوڑا تو کیا تم نے سگریٹ چھوڑے ہیں۔ اگر اب تم نے سگریٹ پی تو تجھے طلاق۔ میں نے غصہ میں اسی وقت سگریٹ سلگایا اور پی لیا۔ میرے سگریٹ سلگانے کے بعد خاوند کہنے لگا میں اپنے الفاظ (طلاق) واپس لیتا ہوں۔ اس کے بعد بھی ہم نے رجوع کر لیا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میرا شک اور پختہ ہوتا گیا۔ سخت ذہنی الجھن کا شکار رہی۔ کچھ عرصے سے میں نے اپنا بیڈ روم الگ کر لیا ہے۔ پچھلے کچھ دنوں سے ہم الگ الگ گھر میں رہتے ہیں۔ اور ہم نے ڈنمارک کے قوانین کے مطابق طلاق کی درخواست دے دی ہوئی ہے۔ اب خاوند نے کافی حد تک نشہ چھوڑ دیا ہے، زیر علاج ہے۔ وہ اصرار کرتا ہے کہ اس نے کبھی طلاق دینے کی نیت کی ہی نہیں۔ نشہ میں طلاق ہوتی ہی نہیں۔ برائے کرم مجھے اسلامی احکامات کے مطابق فتوی دیں کہ میں نے جو کچھ کیا۔ کیا وہ سب درست تھا۔ میری طلاق ہوئی یا نہیں۔ اگر میں اتنے عرصہ سے غلطی پر تھی تو اس کی تلافی کیسے ممکن ہے شکریہ

جواب:

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا فرمان عالی شان ہے :

اَلطَّلاَقُ مَرَّتٰنِ فَاِمْسَاکٌ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ تَسْرِيْحٌ بِاِحْسَانٍ.

’’طلاق (رجعی) ایک یا دو مرتبہ ہے پھر بھلائی سے روک لو یا حسن سلوک سے چھوڑ دو‘‘۔

البقرة، 2 : 229

فَاِنْ طَلَّقَهَا فَلاَ تَحِلُّ لَه مِنْ بَعْدُ حَتّٰی تَنْکِحَ زَوْجًا غَيْرَه.

’’پھر اگر تیسری طلاق (بھی) دیدے تو یہ عورت اس کے لئے حلال نہیں جب تک کسی اور خاوند سے نکاح و قربت نہ کر لے‘‘۔

البقرة، 2 : 230

ایک شخص نے حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے پوچھا :

اِنی طلقت امرأتی مائة تطليقة فماذا تری علی فقال له بن عباس طلقت منک لثلاث و سبع و تسعون اتخذت بها آيات اﷲ هزوا.

’’میں نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دیدی ہیں، آپ کے خیال میں مجھ پر کیا لازم ہے؟حضرت عباس رضی اﷲ عنہما نے فرمایا : تیری طرف سے اسے تین طلاقیں ہوگئیں اور ستانوے سے تونے اﷲ کی آیتوں کا مذاق اڑایا‘‘۔

امام مالک، المتوفی 179ه، موطا، 2 : 550، رقم : 1146، دار اِحياء التراث العربی مصر

جاء رجل اِلی عبد اﷲ فقال اِنی طلقت امرأتی مائة قال بانت منک بثلاث و سائرهن معصية.

ایک شخص حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما کے پاس آیا اور کہا میں نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دیدی ہیں انہوں نے فرمایا : تین طلاقوں سے تیری بیوی تم پر حرام (جدا، بائن) ہوگئی اور باقی گناہ‘‘۔

1. بيهقی، المتوفی 458ه، السنن، 7 : 332، رقم : 14726، مکتبة دار الباز مکة المکرمة

2. ابن ابی شيبة، المتوفی 235ه، المصنف، 4 : 61، رقم : 17800، مکتبة الرشد الرياض

جاء رجل اِلی ابن عباس فقال طلقت امرأتی ألفا فقال بن عباس ثلاث تحرمها عليک و بقيتها عليک وزرا اتخذت آيات اﷲ هزوا.

’’ایک شخص نے حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہما کے پاس آکر کہامیں نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاقیں دیدی ہیں، ابن عباس رضی اﷲ عنہمانے فرمایا : تین نے تجھ پر اسے حرام کر دیا اور بقایا تجھ پر بوجھ و گناہ، تو نے اﷲ کی آیتوں کا مذاق اڑایا ہے‘‘۔

1. عبد الرزاق، المتوفی 211ه، المصنف، 6 : 397، رقم : 11353، المکتب الاسلامی بيروت

2. دار قطنی، المتوفی 385ه، السنن، 4 : 13، رقم : 38، دار المعرفة بيروت

3. بيهقی، السنن، 7 : 337، رقم : 14753

جاء رجل اِلی علی رضی اﷲ عنه فقال طلقت امرأتی ألفا قال ثلاث تحرمها عليک واقسم سائر ها بين نسائک.

’’ایک شخص حضرت علی رضی اﷲ عنہ کے پاس آیا اور کہا میں نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاقیں دیدی ہیں، حضرت علی رضی اﷲ عنہ نے فرمایا : تین نے اس کو تجھ پر حرام کر دیا اور باقی اپنی بیویوں میں تقسیم کر لے‘‘۔

1. بيهقی، السنن، 7 : 335، رقم : 14738

2. دار قطنی، السنن، 4 : 21، رقم : 56

3. ابن أبی شيبة، المصنف، 4 : 62، رقم : 17802

4. هندی، المتوفی 975ه، کنزالعمال، 9 : 291، رقم : دار الکتب العلمية بيروت

باقی رہا حالت نشہ میں طلاق ہوتی ہے کہ نہیں ؟اس کا جواب یہ ہے کہ’’اگر حرام نشہ آور چیز اپنی مرضی سے استعمال کی اور نشہ آگیا تو ایسے نشہ میں طلاق واقع ہو جاتی ہے

طلاق السکران واقع۔’’نشہ والے کی طلاق واقع ہو جاتی ہے‘‘۔

هدايه، 2 : 329

لہٰذا آپ کے خاوند نے آپ کو دو صریح طلاقیں دیں جو واقع ہو گئیں اور پھر رجوع کر لیا اب اس کے پاس زندگی میں صرف ایک طلاق کا حق باقی تھا وہ بھی اس نے استعمال کر دیا اور جو اس نے اضافی طلاقیں دیں وہ حرام کیا ، اﷲ کی آیتوں کا مذاق اڑایا، اپنے اوپر ظلم کیا اور عند اﷲ جوابدہ ہو گا۔المختصر اب آپ دونوں کا اکٹھے رہنا حرام ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2011-12-21


Your Comments