کیا حالت حیض میں بوس و کنار جائز ہے؟

سوال نمبر:1291
السلام علیکم میرا سوال ابن ماجہ کی 2 احادیث کے متعلق ہے۔ ایک روایت فضائل حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ضمن میں کہ انہوں نے فرمایا کہ میں‌ ہی صدیق اکبر ہوں اور میرے بعد کوئی کذاب ہی اس کا دعویٰ کرے گا۔ دوسری روایت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے ساتھ حالت حیض ہونے کی صورت میں بوس و کنار کیا کرتے تھے۔ ان دونوں روایتوں کی تصدیق فرما دیں۔

  • سائل: حسین علی شاہمقام: راولپنڈی
  • تاریخ اشاعت: 02 جنوری 2012ء

زمرہ: حیض   |  نفاس

جواب:

حیض کی حالت میں بوس و کنار کرنا جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ انسان کو یقین ہو کہ وہ اپنے نفس پر کنٹرول کر سکتا ہے، اگر نہیں تو پھر اسے بوس و کنار کرنے سے گریز کرنا چاہیے، شرعی لحاظ میں بوس و کنار کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

جن روایات کے بارے میں آپ نے پوچھا ہے وہ دونوں روایات درست ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟