تصوف کا لغوی معنی و مفہوم کیا ہے؟

سوال نمبر:126
تصوف کا لغوی معنی و مفہوم کیا ہے؟

  • تاریخ اشاعت: 20 جنوری 2011ء

زمرہ: روحانیات  |  روحانیات

جواب:

لفظ ’’تصوف‘‘ کے مادہ اشتقاق کے باب میں مختلف اقوال ہیں، تاہم مندرجہ ذیل مادہ ہائے اشتقاق بیان کیے جاتے ہیں :

1۔ الصوف : ’’اونی لباس‘‘ تصوف کو الصوف کا مصدر مانا جائے تو اس لحاظ سے اس کے معنی ہوئے وہ لوگ جو اونی لباس پہنتے ہیں۔

2۔ الصفو : ’’محبت، خلوص، دوستی کے معنی ہیں‘‘ اس مادہ کے اعتبار سے صوفی سے مراد وہ شخص ہے جس نے دنیا و آخرت کے اجر و جزا سے بے نیاز ہو کر محبوب حقیقی سے بے لوث محبت اور دوستی کا رشتہ استوار کر لیا۔

3۔ التصوف : ’’یکسو ہونا، پوری یکسوئی سے متوجہ ہونا ہے۔‘‘

4۔ الصفا : ’’صاف ہونا۔‘‘ اس کی رو سے کسی شے کو ہر طرح کی ظاہری و باطنی آلودگی سے پاک صاف کر کے اجلا اور شفاف بنا دینا تصوف ہے۔

5۔ الصفہ : اس طبقہ کو صوفیاء اس لیے بھی کہا جاتا ہے کہ ان کے اوصاف اصحاب صفہ سے ملتے جلتے ہیں۔

6۔ الصف : ’’قطار، سلسلہ۔‘‘ گویا صوفیہ کے دل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حضوری کے اعتبار سے اگلی صف میں ہوتے ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟