Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - پھولوں کی پتیاں استقبال کے لیے نچھاور کرنا کیسا عمل ہے؟

پھولوں کی پتیاں استقبال کے لیے نچھاور کرنا کیسا عمل ہے؟

موضوع: متفرق مسائل

سوال پوچھنے والے کا نام: ثاقب ریاض       مقام: گجرات

سوال نمبر 1255:
السلام علیکم کیا پھولوں کی پتیاں استقبال کے لیے نچھاور کرنا جائز ہے یا گناہ ملتا ہے؟ کیونکہ پتیاں تو تسبیح کرتی ہیں اسی لیے ان کو قبور اور مزارات پر ڈالتے ہیں اور یہی پتیاں پاؤں کے نیچے آئیں تو کیا گناہ ملتا ہے؟

جواب:

پھولوں کی پتیاں استقبال کے لیے نچھاور کرنا جائز ہے۔ گناہ نہیں ملتا، پھولوں کی پتیوں کے علاوہ ہر چیز اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہے، درختوں سے پتے وغیرہ بھی تو کاٹے جاتے ہیں، قرآن مجید میں مختلف مقامات پر آیا ہے کہ

سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ

(الْحَدِيْد ، 57 : 1)

اللہ ہی کی تسبیح کرتے ہیں جو بھی آسمانوں اور زمین میں ہیں،

ہر چیز جو زمین و آسمان میں ہے، اللہ کا ذکر کرتی ہے، لہذا اس میں گناہ والی کوئی باتی نہیں ہے، اگر انسان اس طرح سوچنا شروع کر دے تو پھر نظام حیات متاثر ہوگا۔ جانور جن کو ہم ذبح کرتے ہیں، وہ بھی اللہ کا ذکر کرتے ہیں۔ ہر چیز انسان کے لیے پیدا کی گئی ہے، لہذا اس میں کوئی گناہ نہیں، یہی پھول اور پتیاں مزارات اور عام قبروں پر بھی پھینکی جاتی ہیں اور عام راستے میں بھی ہم کو ملتی ہیں، لہذا اس میں کوئی گناہ والی بات نہیں ہے۔ البتہ ادب اور احترام کی غرض سے ایسے پھولوں اور پتیاں جو مزارات وغیرہ پر پھینکی جائیں انہیں راستے سے ہٹا کر ایک طرف رکھ دینا چاہیے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: حافظ محمد اشتیاق الازہری

تاریخ اشاعت: 2011-12-03


Your Comments