Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - اگر دخول سے قبل طلاق ہو جائے تو عدت کا کیا حکم ہوگا؟

اگر دخول سے قبل طلاق ہو جائے تو عدت کا کیا حکم ہوگا؟

موضوع: طلاق   |  غیر مدخولہ کی طلاق

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد فیضان       مقام: پاکستان

سوال نمبر 1237:
اگر شادی کے چند روز بعد ہی طلاق ہو جائے اور میاں بیوی کے درمیان کوئی جسمانی تعلق بھی قائم نہ ہوا ہو تو اس صورت میں عدت کے کیا احکام ہوں‌ گے؟

جواب:

ایسی صورت میں غیر مدخولہ کی عدت قرآن مجید میں یوں بیان کی گئی ہے :

ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا.

(الْأَحْزَاب ، 33 : 49)

پھر تم انہیں طلاق دے دو قبل اس کے کہ تم انہیں مَس کرو (یعنی خلوتِ صحیحہ کرو) تو تمہارے لئے ان پر کوئی عدّت (واجب) نہیں ہے کہ تم اسے شمار کرنے لگو،

(منهاج الفتاویٰ، مفتی عبدالقيوم خان هزاروی، 3 : 651)

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2011-11-03


Your Comments