Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا سفر میں روزہ قصر ہو جاتا ہے ؟

کیا سفر میں روزہ قصر ہو جاتا ہے ؟

موضوع: روزہ  |  عبادات

سوال پوچھنے والے کا نام: نوید       مقام: راولپنڈی

سوال نمبر 1234:
کیا سفر میں روزہ قصر ہو جاتا ہے ؟ اور اگر اعتکاف بیٹھنے سفر کر کے جانا ہے تو کیا روزہ قصر کرنا پڑے گا؟ کیا روزے کے لئے بھی نماز کی طرح سفر میں ضروری قصر کرنا پڑے گا؟

جواب:

روزہ وہ بدنی عبادت ہے جو کہ اجزاء میں تقسیم نہیں ہوتا۔ لہذا روزہ میں قصر نہیں کہ ادھا دن روزہ رکھے اور آدھا دن کھائے پیئے۔ بلکہ قرآن مجید میں یہ حکم دیا گیا ہے اگر تم سفر میں ہو اور روزہ نہیں رکھ سکتے تو افطار کر لیں بعد میں اس کی قضا کریں اور روزہ رکھ لینا بہتر ہے۔

جیسا کہ حکم خداوندی ہے :

فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ يُرِيدُ اللّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلاَ يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ

(الْبَقَرَة ، 2 : 185)

پس تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پا لے تو وہ اس کے روزے ضرور رکھے اور جو کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں (کے روزوں) سے گنتی پوری کرے، اﷲ تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے دشواری نہیں چاہتا،

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

تاریخ اشاعت: 2011-11-04


Your Comments