کیا سفر میں روزہ قصر ہو جاتا ہے ؟

سوال نمبر:1234
کیا سفر میں روزہ قصر ہو جاتا ہے ؟ اور اگر اعتکاف بیٹھنے سفر کر کے جانا ہے تو کیا روزہ قصر کرنا پڑے گا؟ کیا روزے کے لئے بھی نماز کی طرح سفر میں ضروری قصر کرنا پڑے گا؟

  • سائل: نویدمقام: راولپنڈی
  • تاریخ اشاعت: 04 نومبر 2011ء

زمرہ: روزہ  |  عبادات

جواب:

روزہ وہ بدنی عبادت ہے جو کہ اجزاء میں تقسیم نہیں ہوتا۔ لہذا روزہ میں قصر نہیں کہ ادھا دن روزہ رکھے اور آدھا دن کھائے پیئے۔ بلکہ قرآن مجید میں یہ حکم دیا گیا ہے اگر تم سفر میں ہو اور روزہ نہیں رکھ سکتے تو افطار کر لیں بعد میں اس کی قضا کریں اور روزہ رکھ لینا بہتر ہے۔

جیسا کہ حکم خداوندی ہے :

فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ وَمَن كَانَ مَرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ يُرِيدُ اللّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلاَ يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ

(الْبَقَرَة ، 2 : 185)

پس تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پا لے تو وہ اس کے روزے ضرور رکھے اور جو کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں (کے روزوں) سے گنتی پوری کرے، اﷲ تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لئے دشواری نہیں چاہتا،

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟