Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا ادھار فروخت کرنے کی صورت میں زیادہ رقم وصول کرنا جائز ہے؟

کیا ادھار فروخت کرنے کی صورت میں زیادہ رقم وصول کرنا جائز ہے؟

موضوع: معاملات  |  خریدو فروخت (بیع و شراء، تجارت)   |  کتاب العاریہ (ادھار لین دین)

سوال پوچھنے والے کا نام: جمعہ خان       مقام: رحیم یار خان

سوال نمبر 1191:
بعض لوگ کھاد اور ادویات‘ جن کا تعلق زراعت سے ہے، زمیندار کو بازار کے ریٹ سے کچھ رقم زیادہ طے کر کے ادھار دے دیتے ہیں۔ کیا ایسا کرنا جائز ہے؟

جواب:

آپ نے جو بات پوچھی ہے وہ ایک غریب آدمی کی مجبوری سے گو غلط فائدہ اٹھانا بھی ہے، مگر دوسری طرف گاہک کی ایک حد تک ضرورت پوری ہوتی ہے۔ چونکہ منافع کی منصفانہ حد شریعت میں مقرر نہیں، لہٰذا یہ صورت بھی اسی ضمن میں آتی ہے۔ اصولاً سودا صحیح ہے۔ البتہ دوکاندار گاہک سے حسن سلوک اور رحمدلی و ہمدردی کے تحت کم سے کم نفع لے تو اسلامی سیرت سے قریب تر ہے۔ بہرحال صورت مسؤلہ میں سودا شرعاً جائز ہے کہ حرمت کی دلیل نہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2011-09-07


Your Comments