کیا غصہ کی حالت میں‌ طلاق واقع ہو جاتی ہے؟

سوال نمبر:1179

السلام علیکم!

میرا سوال یہ ہے کہ خاوند نے غصہ میں آ کر بیوی کو طلاق یوں دی کہ ایک ہی سانس میں کہہ دیا کہ ’’میں نے تجھے طلاق دی‘‘۔ ’’دی‘‘ کے الفاظ یا جملے چھ دفعہ کہہ دیئے۔ کیا ایسی طلاق ہو جاتی ہے؟

  • سائل: نور اللہمقام: حافظ آباد
  • تاریخ اشاعت: 17 اگست 2011ء

زمرہ: طلاق

جواب:

اگر واقعی خاوند نے یہی الفاظ بولے کہ تجھے طلاق دی، دی، دی، تو ایک طلاق رجعی واقع ہوئی۔ الفاظ تاکید کے لئے ہیں‘ پہلے میں طلاق کا ذکر ہے۔ پس عدت کے اندر اندر اگر دونوں رضا مند ہوں تو رجوع کر سکتے ہیں۔ اگر عدت کے اندر رجوع نہ کیا تو بائن ہو جائے گی اور نکاح ٹوٹ جائے گا۔ دوبارہ چاہیں تو از سر نو نکاح کر سکتے ہیں، ورنہ عورت جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟