Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - لا علمی کی وجہ سے زکوٰۃ ادا نہ کر سکنے پر گذشتہ سالوں کی زکوٰۃ‌ بھی ادا کرنے پڑے گی یا نہیں؟

لا علمی کی وجہ سے زکوٰۃ ادا نہ کر سکنے پر گذشتہ سالوں کی زکوٰۃ‌ بھی ادا کرنے پڑے گی یا نہیں؟

موضوع: ترک زکوۃ پر وعید   |  شرائط وجوب زکوۃ   |  شرائط ادائے زکوۃ

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد اشرف       مقام: امریکہ

سوال نمبر 1163:

1- میری بیوی کے پاس نصاب سے زائد سونا ہے، پہلے ہمیں پتہ نہیں تھا کہ سونے پر بھی زکوٰۃ ہوتی ہے۔ ہم لاعلمی کی وجہ سے گذشتہ 13 سالوں سے زکوٰۃ ادا نہیں کر سکے، اب ہمیں سابقہ سالوں کی زکوٰۃ بھی ادا کرنی پڑے گی یا صرف موجودہ سال کی؟

2- میں امریکہ میں ایک کار ڈیلر ہوں، مجھے یہ بتا دیں کہ کیا صرف منافع پر زکوٰۃ ادا کی جائے گی یا گاڑیوں کی مالیت پر بھی زکوٰۃ ادا کی جائے گی؟

جواب:

صورت مسؤلہ میں آپ پر گذشتہ 13 برس کی زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے، جتنا سونا ہے اس کی قیمت سے آڑھائی فیصد (% 2.5) ہر سال کے حساب سے ادا کریں۔ اگر آپ کی بیوی کے پاس صرف یہی سونا ہے اور نقد مال نہیں ہے تو پھر پہلے سال میں جو زکوٰۃ ادا کرنے سے کم ہوا اگلے سال کی زکوٰۃ میں دی ہوئی زکوٰۃ شمار نہ کریں۔ اسی طرح ہر سال کمی واقع ہوگی۔ جب یہ سونا 7.5 تولہ کم رہ جائے پھر آپ پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔

2۔ آپ چونکہ گاڑیوں کی تجارت کرتے ہیں لہذا اصل مال یعنی تمام موجود گاڑیوں کی قیمت اور جو نقد آپ کے پاس ہو تمام جمع کر کے زکوٰۃ ادا کریں۔ زکوٰۃ سال میں ایک مرتبہ ادا کرنا فرض ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

تاریخ اشاعت: 2011-09-17


Your Comments