Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا مکان کی تعمیر کے لیے رکھی گئی رقم پر زکوٰۃ ادا کی جائے گی؟ اگرچہ رقم نصاب زکوٰۃ تک پہنچتی ہو

کیا مکان کی تعمیر کے لیے رکھی گئی رقم پر زکوٰۃ ادا کی جائے گی؟ اگرچہ رقم نصاب زکوٰۃ تک پہنچتی ہو

موضوع: شرائط وجوب زکوۃ   |  قرض رقم پر زکوۃ

سوال پوچھنے والے کا نام: حارث جاوید       مقام: پاکستان

سوال نمبر 1161:

میں زکوٰۃ ادائیگی کے بارے میں ایک سوال پوچھنا چاہتا ہوں۔ میں بیرون ملک مقیم ایک طالب علم ہوں، میں نے کچھ پیسے بچائے ہوئے ہیں جو نصاب زکوٰۃ تک پہنچتے ہیں۔ تاہم میں نے وہ پیسے پاکستان کے اندر مقیم اپنے خاندان کے لئے بھیجنے ہیں۔ کیونکہ ہمارا ابھی تک کوئی ذاتی مکان نہیں ہے۔

میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس رقم پر زکوٰۃ ادا کی جائے گی جو کسی مکان کی تعمیر کے سلسلے میں بچا کر رکھی گئی ہو؟

جواب:

جو رقم آپ نے مکان خریدنے کے لیے رکھی ہے یا کسی اور مقصد کے لیے تو اس پر زکوٰۃ واجب ہے، جب تک خرچ نہ ہو جائے، چونکہ آپ اس رقم کے مالک ہیں اور نصاب بھی پورا ہے، لہذا زکوٰۃ واجب ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

تاریخ اشاعت: 2011-09-17


Your Comments