کیا زکوٰۃ کی رقم کسی مستحق طالب علم کو دی جا سکتی ہے؟

سوال نمبر:1160
زکوۃ مسلم معاشرے کی فلاح و بہبود کا ذریعہ ہے۔ کیا زکوۃ کی رقم میڈیکل یا انجینئرنگ یونیورسٹی کے ایسے طلبہ کی فیس کے لئے ادا کرنا جائز ہے جو زکوۃ کے مستحق ہوں اور اگر انہیں زکوۃ نہ ملے تو ان کی تعلیم کا سلسلہ بند ہو جانے کا خدشہ ہو؟

  • سائل: عاطف متین انصاریمقام: نامعلوم
  • تاریخ اشاعت: 08 مارچ 2012ء

زمرہ: زکوۃ

جواب:

جی ہاں! ایسے طلبہ کو زکوٰۃ دینا، یا زکوٰۃ کی رقم سے ان کی فیس ادا کرنا شرعی طور پر جائز ہے۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔ بلکہ ایسے مستحق طلبہ کی مدد کرنا ضروری ہے، یہ کار خیر ہے، ملک و ملت کا سرمایہ ہیں۔ لہذا ہر وہ طالب علم جو علم نافع حاصل کر رہا ہو زکوٰۃ کے پیسوں سے اس کی مالی معاونت کرنا جائز ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟