Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا کوئی شخص صرف کفارہ ادا کر کے سال کے کسی اور مہینے میں‌ روزے رکھ سکتا ہے؟

کیا کوئی شخص صرف کفارہ ادا کر کے سال کے کسی اور مہینے میں‌ روزے رکھ سکتا ہے؟

موضوع: روزہ  |  مریض کے روزہ کے احکام   |  مسافر کے روزہ کے احکام   |  روزہ کی قضاء اور کفارہ   |  فرضیت روزہ

سوال پوچھنے والے کا نام: طاہر محمود       مقام: یو کے

سوال نمبر 1134:
اگر کوئی شخص یہ محسوس کرے کہ وہ روزہ رکھنے کے قابل نہیں ہے۔ اس لیے کہ اس کا وقت طویل ہے اور موسم بھی خاصا گرم ہے۔ تو کیا وہ اس صورت میں‌ صرف کفارہ ادا کر کے سال کے کسی اور مہینے میں‌ روزے رکھ سکتا ہے؟ کیا اسلام میں‌ اس کی اجازت ہے؟ کیا آپ براہ مہربانی مجھے بتا سکتے ہیں کہ اس کی اجازت ہے یا نہیں؟

جواب:

اگر کوئی شخص اتنا کمزور ہو کہ رمضان شریف میں روزے نہیں رکھ سکتا۔ تو جب صحت یاب ہو جائے تو قضاء اس پر واجب ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

فَمَن كَانَ مِنكُم مَّرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَر.

(البقرة، 2 : 182)

پس اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں (کے روزوں) سے گنتی پوری کر لے۔

قرآن مجید نے یہ رعایت اس طرح دی ہے کہ کوئی شخص بیمار ہو گیا یا حالت سفر میں ہے، تو اگر وہ روزہ نہیں رکھ سکتا تو رمضان کے بعد پھر ان روزوں کی قضاء کر لیں۔ تو اس پر گناہ نہیں۔ اس صورت میں فدیہ نہیں دے سکتا۔

اگر کوئی شیخ فانی ہو یعنی عمر کے لحاظ سے اتنا بوڑھا ہو جائے کہ آئندہ بھی روزے رکھنے کا امکان نہ ہو اور صحت مند ہو جانے کی امید بھی باقی نہ ہو۔ یا کوئی شخص اگرچہ کم عمر ہے مگر کوئی ایسی بیماری لاحق ہو گئی کہ اس کا کوئی علاج ممکن نہ ہو یعنی شافی علاج، مثلاً شوگر کا مریض، فالج وغیرہ کا مریض تو ایسے لوگ زندگی میں ہر روزے کے بدلے دو کلو گندم، آٹا یا اس کی قیمت کسی غریب، مسکین کو دے دیں۔ اس کو فدیہ کہتے ہیں۔

کسی شخص کا موسم کی شدت محسوس کرتے ہوئے ماہ رمضان کی بجائے کسی اور مہینے میں روزے رکھنا جائز نہیں ہے۔ البتہ اگر کوئی باشرع مسلمان ڈاکٹر کسی شخص کو کسی علت کی بناء پر روزے مؤخر کرنے کو کہے تو (بصورت قضاء) ایسا کرنا جائز ہوگا۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

تاریخ اشاعت: 2011-08-02


Your Comments