شوہر کا بیوی کو قسم دینا کہ فلاں بات سچ بتاؤ، جھوٹ بولو گی تو تمہیں طلاق؟ اگر یہی معاملہ بیوی اپنے شوہر سے کرے، تو کیا حکم ہوگا؟

سوال نمبر:1133
اگر مرد اپنی بیوی سے کہے کہ مجھے فلاں بات سچ سچ بتاؤ اگر جھوٹ بولو گی تو تمہیں ایک طلاق۔ اگر بیوی جھوٹ بولے تو کیا ایک طلاق ہو جائےگی اور دوسرے دن بیوی سچ بول دے یا مرد اپنا کہا واپس لےلےتوکیا ایک طلاق ہوگی یا تین؟ جب کہ اس نے ایک طلاق کہی ہو؟ اور اگر یہی الفاظ بیوی مرد سے کہے تو کیا پھر بھی ہو جائے گی؟

  • سائل: راجہ حنیفمقام: لاہور، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 02 اگست 2011ء

زمرہ: طلاق   |  طلاق رجعی

جواب:

چونکہ شوہر نے یہ شرط لگائی تھی کہ اگر جھوٹ بولوگی تو تمہیں ایک طلاق ہو جائے گی۔ لہٰذا اگر بیوی نے جھوٹ بولا تو فقط ایک طلاق واقع ہو جائے گی۔ دوسرے دن کا اعتبار نہیں۔ اسی طرح شوہر الفاظ طلاق واپس نہیں لے سکتا۔

بیوی کو طلاق کا اختیار نہیں۔ لہٰذا اگر بیوی کہے بھی تو کچھ نہیں۔

و الفاظ الشرط ان و اذا و اذا ما وکل و کلما ومتی و متی ما قال ففی هذه الالفاظ اذا وجد الشرط انحلت و انتهت اليمين.

(هدايه، 1: 953)

"جب" اور "اگر" کے الفاظ کے ذریعے طلاق کو مشروط کیا گیا تھا تو شرط پائی جانے سے طلاق واقع ہو جائے گی اور قسم ختم ہو جائے گی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟