Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - محرمات سے زنا پر دلیل شرعی سے وضاحت کریں۔

محرمات سے زنا پر دلیل شرعی سے وضاحت کریں۔

موضوع: محرمات نکاح   |  زنا و بدکاری

سوال پوچھنے والے کا نام: شاہد       مقام: لاہور، پاکستان

سوال نمبر 1132:
میرا سوال یہ ہے کہ آج کل زنا بہت عام ہو گیا ہے اور محرمات کے ساتھ بھی زنا ہو رہا ہے۔ میری درخواست ہے کہ محرم رشتوں کے بارے میں تفصیل بتائیں۔

جواب:

زنا گناہ کبیرہ ہے، چاہیے محرمات سے ہو یا غیر محرمات سے۔ زنا کے بارے میں قرآن مجید میں یہ فرمایا گیا ہے :

 وَلاَ تَقْرَبُواْ الزِّنَى إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَسَاءَ سَبِيلاً.

(سُورة الْإِسْرَاء - بَنِيْ إِسْرَآءِيْل، 17 : 32)

 اور تم زنا (بدکاری) کے قریب بھی مت جانا بیشک یہ بے حیائی کا کام ہے، اور بہت ہی بری راہ ہے۔

اسلام میں شادی شدہ زانی کے لیے رجم بطور حد سزا مقرر کی گئی ہے اور غیر شادی شدہ کو 100 کوڑے لگائے جائیں گے۔ زنا بد ترین فعل ہے اور گناہ کبیرہ ہے۔ العیاذ باللہ

ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے :

الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِئَةَ جَلْدَةٍ .

(النور، 24 : 2)

بدکار عورت اور بدکار مرد (اگر غیر شادی شدہ ہوں) تو ان دونوں میں سے ہر ایک کو (شرائطِ حد کے ساتھ جرمِ زنا کے ثابت ہو جانے پر) سو (سو) کوڑے مارو (جبکہ شادی شدہ مرد و عورت کی بدکاری پر سزا رجم ہے اور یہ سزائے موت ہے)

محرمات کے بارے میں قرآن مجید میں تفصیل بیان کر دی گئی ہے۔ ان رشتوں سے ہمیشہ کے لیے نکاح کرنا حرام ہے اور زنا تو بدرجہ اتم حرام ہے۔

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالاَتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللاَّتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُم مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَآئِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللاَّتِي فِي حُجُورِكُم مِّن نِّسَآئِكُمُ اللاَّتِي دَخَلْتُم بِهِنَّ فَإِن لَّمْ تَكُونُواْ دَخَلْتُم بِهِنَّ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلاَئِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلاَبِكُمْ وَأَن تَجْمَعُواْ بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إَلاَّ مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللّهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا .

(النساء، 4 : 23)

تم پر تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں اور تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری (وہ) مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہو اور تمہاری رضاعت میں شریک بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں (سب) حرام کر دی گئی ہیں، اور (اسی طرح) تمہاری گود میں پرورش پانے والی وہ لڑکیاں جو تمہاری ان عورتوں (کے بطن) سے ہیں جن سے تم صحبت کر چکے ہو (بھی حرام ہیں)، پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو تم پر (ان کی لڑکیوں سے نکاح کرنے میں) کوئی حرج نہیں، اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں (بھی تم پر حرام ہیں) جو تمہاری پشت سے ہیں، اور یہ (بھی حرام ہے) کہ تم دو بہنوں کو ایک ساتھ (نکاح میں) جمع کرو سوائے اس کے کہ جو دورِ جہالت میں گزر چکا۔ بیشک اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2011-07-25


Your Comments