شریعت کا لغوی و اصطلاحی مفہوم کیا ہے؟

سوال نمبر:113
شریعت کا لغوی و اصطلاحی مفہوم کیا ہے؟

  • تاریخ اشاعت: 20 جنوری 2011ء

زمرہ: روحانیات  |  روحانیات

جواب:
لفظ شریعت کامادہ ش۔ر۔ع ہے اور اس کا لغوی معنی ہے وہ سیدھا راستہ جو واضح ہو۔

 امام راغب اصفهانی، مفردات القرآن : 259

ابن منظور نے لسان العرب میں اس کے اصطلاحی معنی یہ بیان کیے ہیں :

من سَنَّ اﷲ من الدّين للعباد وامر به.

’’بندوں کے لئے زندگی گزارنے کا وہ طریقہ جسے اللہ تعالیٰ نے تجویز کیا اور بندوں کو اس پر چلنے کا حکم دیا(جیسے نماز، روزہ، حج، زکوٰہ اور جملہ اعمال صالحہ)۔‘‘

ابن منظور، لسان العرب، 8 : 175

لغت کی کتاب ’’مختار الصحاح‘‘ میں شریعت کے اصطلاحی معنی یہ درج ہیں :

’’شریعت سے مراد وہ احکام ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے بطور ضابطہ حیات جاری فرمائے ہیں۔‘‘

 عبدالقادر الرازی، مختار الصحاح : 473

اس سے معلوم ہوا کہ شرع اور شریعت سے مراد دین کے وہ معاملات و احکامات ہیں جو اللہ نے بندوں کے لئے بیان فرما دیے اور جو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عطا کردہ ضابطہ حیات سے ثابت ہیں۔ شریعت سے اوامر و نواہی، حلال و حرام، فرض، واجب، مستحب، مکروہ، جائز و ناجائز اور سزا و جزا کا ایک جامع نظام استوار ہوتا ہے۔ شریعت ثواب و عذاب، حساب و کتاب کا علم ہے۔ شریعت کے اعمال دین کے اندر ظاہری ڈھانچے اور جسم کی حیثیت رکھتے ہیں۔

ڈاکٹر محمد طاہرالقادری فرماتے ہیں :

’’شریعت دراصل قرآن و سنت پر مبنی اوامر و نواہی کا وہ نظام ہے جو انفرادی اور اجتماعی زندگی کے عمل کو منظم اور منضبط کرتا ہے۔‘‘

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟