Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - اگر سجدہ سہو کرنا درود شریف پڑھنے کے بعد یاد آئے تو اس کا کیا حکم ہے؟

اگر سجدہ سہو کرنا درود شریف پڑھنے کے بعد یاد آئے تو اس کا کیا حکم ہے؟

موضوع: عبادات  |  نماز

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد اکرم       مقام: تلہ گنگ، پاکستان

سوال نمبر 1124:
اگر سجدہ سہو کرنا درود شریف پڑھنے کے بعد یاد آئے تو کیا اس وقت سجدہ سہو کر لینا چاہیے یا دوبارہ نماز پڑھنی چاہیے؟

جواب:

اگر سجدہ سہو درود شریف پڑھنے کے بعد یا سلام پھیرنے کے بعد یاد آیا تو اس وقت بھی سجدہ سہو کیا جا سکتا ہے اور کرنا ضروری ہے تاکہ نماز مکمل ہو جائے۔ البتہ اگر سلام پھیرنے کے بعد کوئی ایسا عمل کیا ہو جو مفسد نماز ہو تو پھر سجدہ سہو ساقط ہو گیا۔ یعنی جب تک نماز میں ہے سجدہ سہو کر سکتاہے۔

فتاویٰ عالمگیری میں ہے :

اذا نسی قراءة التشهد حتی سلم ثم تذکر عاد و تشهد و عليه السهو.

(فتاویٰ عالمگيری، جلد 1، صفحه 127)

اگر کوئی تشہد بھول گیا اور سلام پھیر دیا، پھر جلدی یاد آ گیا تو تشہد پڑھے، پھر سجدہ سہو کرے اور سلام پھیرے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

تاریخ اشاعت: 2011-07-13


Your Comments