Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - جس دوائی میں الکوحل شامل ہو اس کا استعمال کیسا ہے؟

جس دوائی میں الکوحل شامل ہو اس کا استعمال کیسا ہے؟

موضوع: حرام کھانے   |  حرام مشروبات   |  حرام  |  مباح

سوال پوچھنے والے کا نام: احمد علی       مقام: الریاض۔ سعودی عرب

سوال نمبر 1102:
ہومیو پیتھک دوائی کا استعمال کیسا ہے؟ جس میں الکوحل کا تناسب %90 یا %70 درج ہو

جواب:

حالت اضطراری میں جائز ہے۔ مثلاً کوئی ماہر ڈاکٹر یہ کہے کہ یہ دوا اس مرض کے لیے بہتر ہے اور اس کے علاوہ کوئی اور دوا اس مرض کے لیے مفید نہیں ہے تو پھر جائز ہے۔

الضرورات تبيح المحذورات.

ضرورت کے وقت حرام، مباح ہو جاتاہے۔

عام حالات میں اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ فتاویٰ عالمگیری میں لکھا ہے :

يجوز للعليل شرب الدم والبول و اکل الميتة للنداوی اذ اخبر طبيب مسلم ان شفاءة فيه و لم يجد من المباح ما يقوم مقامه.

(فتاویٰ عالمگيری، جلد 3، صفحه 355)

اگر ایک مسلمان طبیب کی رائے میں خون، بول (پیشاب) اور مردار کو کھانے سے کسی مریض کو شفاء مل سکتی ہو اور ان کے متبادل کوئی حلال شے (بطور دوا) بھی موجود نہ ہو تو ان چیزوں کا کھانا جائز ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2011-08-02


Your Comments