نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ کا حکم کیا ہے؟

سوال نمبر:1076

نمازہ جنازہ میں سورۃ فاتحہ کا حکم کیا ہے؟

حدیث میں ہے کہ ’’اس شخص کی نماز نہیں جو نماز میں سورۃ فاتحہ کو نہیں پڑھتا۔‘‘

اسی طرح بخاری کی روایت میں بھی نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ کا پڑھنا واجب ہے۔

تو جو شخص نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ کو نہ پڑھے تو کیا اس کا جنازہ ہو جائے گا۔

اور نماز جنازہ پڑھنے میں کتنی دیر یعنی کتنا ٹائم لگانا چاہیے۔ ہمارے علاقے میں تو مولوی صاحب ایک منٹ سے پہلے نماز جنازہ کو ختم کر دیتے ہیں، اس میں نہ تو مقتدی حضرات دعائیں پوری پڑھ سکتے ہیں۔ بس ایک رسم کے طور پر جنازہ ہوتا ہے۔ اس بارے میں میری راہنمائی فرمائیے۔

  • سائل: حافظ محمد عمرمقام: ڈیرہ غازی خان
  • تاریخ اشاعت: 25 جون 2011ء

زمرہ: نماز جنازہ

جواب:
نماز جنازہ دراصل دعائے مغفرت ہے من کل وجوہ پنجگانہ نماز کی طرح نہیں ہے۔ مثلاً فرض نماز کے لیے وقت سبب ہے، نماز جنازہ کے لیے نہیں ہے۔ فرض نمازوں میں سجدہ، رکوع، تشہد وغیرہ ہوتے ہیں مگر جنازہ میں نہیں ہوتے۔ اسی طرح فرض، سنت اور نفل نمازوں میں فاتحہ واجب مطلق، قراءت فرض جبکہ نماز جنازہ میں نہیں ہے۔

اس لیے نماز جنازہ میں فاتحہ بطور قراءت واجب نہیں ہے، البتہ بطور دعا پڑھی جائے تو کوئی حرج نہیں، درست ہے۔ امام بخاری نے عبداللہ بن عوف سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

صليت خلف ابن عباس علی جنازة فقراء لفاتحة الکتاب و قال يستعلموا انها سنة.

(صحيح، البخاری، ج : 1، ص : 871)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے نماز جنازہ میں فاتحہ پڑھی تاکہ لوگ سیکھیں کہ یہ سنت ہے تو اس روایت سے فقط سنت ثابت ہے نہ کہ واجب۔

آیئے اب ہم امام بخاری اور امام اعظم رحمہما اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نماز جنازہ کے بارے میں جو نقل کیا ہے اسے بھی دیکھ لیں۔ امام بخاری فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز جنازہ کا نام صلوٰۃ رکھا۔

ليس فيها رکوع ولا سجود ولا يتکلم فيها و فيها تکبير و تسليم.

اس میں نہ رکوع ہے نہ سجدہ، نہ بات چیت، تکبیر کہنا اور سلام پھیرنا ہے۔

مؤطا امام مالک میں حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں ہے :

عن نافع ابن عمر کان لا يقراء فی الصلوٰة علی الجنازة.

نافع ابن عمر رضی اللہ عنہ نماز جنازہ میں قراءت نہیں کرتے تھے۔

اسی طرح مستدرک  میں حضرت ابو ہریرہ اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہما سے نماز جنازہ کے بارے میں جو روایت منقول ہے اس میں عمومی دعا کا ذکر ہے، فاتحہ کا ذکر نہیں ہے۔

جو روایت ہم نے بخاری شریف کی پیش کی ہیں ان کے مطابق اگر بطور دعا کوئی سورۃ الفاتحہ پڑھتا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ باقی نماز جنازہ میں چار تکبیرات کہنا فرض ہے۔ پہلی تکبیر کے بعد ثناء، دوسرے تکبیر کے بعد درود شریف، تیسری تکبیر کے بعد میت کے لیے دعا مغفرت اور چوتھی تکبیر کے بعد سلام پھیرنا۔ لہٰذا وقار اور سکون کے ساتھ نماز جنازہ پڑھی جائے، جتنا وقت بھی لگتا ہے لگ جائے۔ وقت کی کوئی قید نہیں ہے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟