گھوڑے کا گوشت حلال ہے یا حرام؟

سوال نمبر:1075
گھوڑے کا گوشت حلال ہے یا حرام؟ حدیث کی روشنی میں بتائیں۔

  • سائل: امین مغلمقام: سعودی عرب
  • تاریخ اشاعت: 29 جون 2011ء

زمرہ: حلال و حرام جانور

جواب:

گھوڑے کے بارے میں علماء کرام کے درمیان تھوڑا اختلاف ہے۔ گھوڑے کا گوشت امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک مکروہ تحریمی ہے۔ اس لیے کہ یہ آلہ جہاد ہے اور کھانے کی وجہ سے اس کی تعداد میں کم واقع ہوگی۔ صاحب قدوری، صاحب ہدایہ اور امام شامی یوں بیان کرتے ہیں :

ويکره لحم الفرس عند ابی حنيفة والمکروه تحريماً يطلق عليه عدم الحل

امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک گھوڑے کا گوشت مکروہ تحریمی ہے اور یہ حلال نہیں ہے۔

ان التحريم ليس لنجاسة لحمها ان حرمة الاکل لاحترام من حيث انه يقع به ارهاب العدو لا للنجاسة فلا يوجب نجاسة السؤر کما فی الآدمی

گھوڑے کا گوشت اس لیے حرام نہیں کہ یہ نجس ہے بلکہ اسے اس کے احترام کی وجہ سے حرام قرار دیا گیا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے (دوران جہاد) دشمن پر رعب طاری کیا جاتا ہے۔ (گھوڑے کی حرمت) نجاست کی وجہ سے نہیں ہے۔ یہی وجہ سے ہے کہ انسان کی طرح گھوڑے کا جوٹھا (پانی) بھی نجس نہیں ہوتا۔

(امام عابدين شامی، 305:6)

امام بخاری حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں :

عن جابر بن عبدالله قال نهی النبی صلی الله عليه وآله وسلم يوم خيبر عن لحوم الحمر ور خص فی لحوم الخيل

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خیبر کے دن گدھے کے گوشت سے منع فرمایا اور گھوڑے کا گوشت کھانے میں رخصت دی۔

امام شافعی، امام محمد حنفی اور امام ابو یوسف حنفی نے اس حدیث پاک سے گھوڑے کے گوشت کھانے پر استدلال کیا ہے اور امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نے قرآن مجید کی اس آیت سے نفی پر استدلال کیا ہے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :

وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ لِتَرْكَبُوهَا وَزِينَةً وَيَخْلُقُ مَا لاَ تَعْلَمُونَ.

"اور (اُسی نے) گھوڑوں اور خچروں اور گدھوں کو (پیدا کیا) تاکہ تم ان پر سواری کر سکو اور وہ (تمہارے لئے) باعثِ زینت بھی ہوں، اور وہ (مزید ایسی بازینت سواریوں کو بھی) پیدا فرمائے گا جنہیں تم (آج) نہیں جانتے"۔

اس آیت مبارکہ میں ان تینوں چیزوں پر سوار ہونے کا ذکر کیا گیا ہے اور گوشت کھانے کا ذکر نہیں کیا گیا جیسا کہ اس سے پہلے آیت میں گوشت کھانے کا ذکر کیا گیا ہے۔

امام نسائی، امام ابو داؤد اور ابن ماجہ نے خالد بن ولید سے روایت کی ہے :

ان رسول الله صلی الله عليه وآله وسلم نهی عن اکل لحوم الخيل والبغال والحمير

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے گھوڑے کا گوشت خچر اور گدھے کا گوشت کھانے سے منع کیا ہے۔ جب حلال اور حرام میں تعارض ہو تو ترجیح حرام کو ہوتی ہے۔ اس لیے امام اعظم اور امام مالک رحمۃ اللہ عنہما کراہت کے قائل ہیں۔

جب حلال اور حرام میں تعارض واقع ہو رہا ہو تو ترجیح حرام کو دیتے ہوئے اس کو چھوڑ دیتے ہیں۔ اسی لیے امام اعظم اور امام مالک رضی اللہ عنہما کراہت کے قائل ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟