علم الاحسان یا علم التزکیہ کی ازروئے قرآن کیا اہمیت ہے؟

سوال نمبر:107
علم الاحسان یا علم التزکیہ کی ازروئے قرآن کیا اہمیت ہے؟

  • تاریخ اشاعت: 20 جنوری 2011ء

زمرہ: روحانیات  |  روحانیات

جواب:

اللہ تعالیٰ نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کے پانچ فرائض بیان فرمائے ہیں جن میں سے ایک تزکیہ نفس بھی ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

کَمَآ اَرْسَلْنَا فِيْکُمْ رَسُوْلاً مِنْکُمْ يَتْلُوْا عَلَيْکُمْ اٰيٰتِنَا وَيُزَکِّيْکُمْ وَ يُعَلِّمُکُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَة وَ يُعَلِّمُکُمْ مَّالَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَO

’’اسی طرح ہم نے تمہارے اندر تمہیں میں سے (اپنا) رسول بھیجا جو تم پر ہماری آیتیں تلاوت فرماتا ہے اور تمہیں پاک صاف کرتا ہے اور تمہیں کتاب کی تعلیم دیتا ہے اور حکمت و دانائی سکھاتا ہے اور تمہیں وہ (اسرار معرفت و حقیقت) سکھاتا ہے جو تم نہ جانتے تھے۔‘‘

 البقره، 2 : 151

مذکورہ بالا آیات میں قرآن کی آیات کی تلاوت کرنا اور قرآن کی تعلیم دینا اور حکمت و دانائی سکھانا ایسے امور ہیں جن کا تعلق شریعت کے ظاہری احکام و اعمال کے ساتھ ہے اور تزکیہ نفس باطنی روحانی تربیت سے متعلق ہے جبکہ یعلمکم مالم تکونوا تعلمون ارشاد ربانی میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ قرآن کی تعلیم و حکمت کے علاوہ بھی کچھ اسرار و رموز ہیں ان معارف کو علم لدنی، علم معرفت اور حقیقت کہتے ہیں اور یہ وہ علوم تھے جن کو کوئی نہیں جانتا تھا مگر نبوت و رسالت کا فریضہ منصبی یہ بھی قرار پایا کہ ان روحانی علوم و معرفت کو بھی عارفانِ حق پر منکشف کریں۔ اس علم کو جس سے بندہ اپنے رب کی معرفت اور پہچان حاصل کرے اسے قرآن نے علم لدنی اور علم حقیقت قرار دیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

وَ عَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْماً.

’’اور ہم نے اسے اپنا علم لدنی (الہام و معارف کا علم) سکھایا۔‘‘

 الکهف، 18 : 25

اس کے علاوہ تقوی، اخلاص اور حسن نیت کے مختلف عنوانات کے تحت بھی الاحسان کی اہمیت کا قرآن حکیم میں ذکر ملتا ہے۔

لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِن يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنكُمْ.

’’اور اللہ کو ہرگز اس کا گوشت اور اس کا خون نہیں پہنچتا بلکہ اس کو تو (تمہارے دلوں) کا تقویٰ پہنچتا ہے۔‘‘

 الحج، 22 : 37

تصوف و احسان جس مجاہدے اور ریاضت کا راستہ ہے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا وَإِنَّ اللَّهَ لَمَعَ الْمُحْسِنِينَO

’’اور جنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرور ہم انہیں اپنے راستے دکھا دیں گے او ربے شک اللہ تعالیٰ ضرور احسان کی روش اختیار کرنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘

 العنکبوت، 29 : 69

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟