Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - کیا کوئی شخص جان بچانے کی خاطر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے سکتا ہے؟

کیا کوئی شخص جان بچانے کی خاطر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے سکتا ہے؟

موضوع: طلاق   |  طلاق مغلظہ(ثلاثہ)

سوال پوچھنے والے کا نام: ذوالفقار       مقام: راولپنڈی، پاکستان

سوال نمبر 1045:
اگر ایک شخص کسی کی کنپٹی پر پستول رکھ کر یہ کہے کہ اپنی بیوی کو تین طلاق دے دو ورنہ میں تمہیں جان سے مار دوں گا اور حقیقی خطرہ موجود ہے کہ وہ جان سے مار دے گا تو کیا اگر وہ شخص اپنی بیوی کو تین طلاق محض جان بچانے کی خاطر دے دے تو وہ طلاق واقع ہو جائے گی یا نہیں ؟

جواب:
اس صورت میں طلاق واقع ہوجائے گی اور تین طلاقیں دینے پر حلالہ کیے بغیر دوبارہ نکاح جائز نہیں ہے۔

فقہاء کرام فرماتے ہیں :

طلاق مکره واقع.

(هدايه، ج : 2، ص : 329)

مجبوری کی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔

آپ لوگ علماء کرام کے پاس بیٹھنا گوارہ نہیں کرتے اگر علماء کرام کی مجالس میں بیٹھیں تو ضرور مستفید ہونگے۔ ایک فائدہ یہ کہ جب بھی ایسی صورت حال پیش آئے تو طلاق کےساتھ ان شاءاللہ کہنا چاہیے اس سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

تاریخ اشاعت: 2011-06-16


Your Comments