کیا کوئی شخص جان بچانے کی خاطر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے سکتا ہے؟

سوال نمبر:1045
اگر ایک شخص کسی کی کنپٹی پر پستول رکھ کر یہ کہے کہ اپنی بیوی کو تین طلاق دے دو ورنہ میں تمہیں جان سے مار دوں گا اور حقیقی خطرہ موجود ہے کہ وہ جان سے مار دے گا تو کیا اگر وہ شخص اپنی بیوی کو تین طلاق محض جان بچانے کی خاطر دے دے تو وہ طلاق واقع ہو جائے گی یا نہیں ؟

  • سائل: ذوالفقارمقام: راولپنڈی، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 16 جون 2011ء

زمرہ: طلاق   |  طلاق مغلظہ(ثلاثہ)

جواب:
اس صورت میں طلاق واقع ہوجائے گی اور تین طلاقیں دینے پر حلالہ کیے بغیر دوبارہ نکاح جائز نہیں ہے۔

فقہاء کرام فرماتے ہیں :

طلاق مکره واقع.

(هدايه، ج : 2، ص : 329)

مجبوری کی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔

آپ لوگ علماء کرام کے پاس بیٹھنا گوارہ نہیں کرتے اگر علماء کرام کی مجالس میں بیٹھیں تو ضرور مستفید ہونگے۔ ایک فائدہ یہ کہ جب بھی ایسی صورت حال پیش آئے تو طلاق کےساتھ ان شاءاللہ کہنا چاہیے اس سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • قطع تعلقی کرنے والے رشتے داروں سے صلہ رحمی کا کیا حکم ہے؟
  • مزارات پر پھول چڑھانے اور چراغاں کرنے کا کیا حکم ہے؟