اپنے مقدر کو کوسنے والے کے بارے میں کیا حکم ہے؟

سوال نمبر:1040
اگر کوئی شخص کہے کہ پتہ نہیں‌ میرے حالات کب ٹھیک ہوں گے، اگر میرے حالات ایسے ہی رہنے ہیں تو اللہ مجھے پیدا ہی نہ کرتا۔ نہ تو میں اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کو کوئی فائدہ دے سکا ہوں بلکہ ان پر بوجھ بنا ہوا ہوں اور میری بیوی کو کوئی اچھا آدمی مل جاتا جس سے اس کی اور اس کے بچوں کی زندگی اچھی ہو جاتی۔ مجھے اپنی زندگی بے مقصد اور بے فائدہ نظر آرہی ہے۔ ایسے کہنے یا سوچنے والے کے بارے میں کیا حکم ہے۔

  • سائل: محمد عابدمقام: سیالکوٹ، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 16 جون 2011ء

زمرہ: معاملات

جواب:

ایسے کلمات سے اجتناب ضروری ہے، یہ مایوسی اور ناامیدی ہے جو کہ حرام ہے اور بعض صورتوں میں کفر ہے۔

اللہ تعالیٰ رازق ہے، اس نے سب سے رزق کا وعدہ فرمایا ہے، اس شخص کو چاہے کہ وہ محنت کرے اللہ تعالیٰ کسی کی محنت ضائع نہیں کرتا ان شاء اللہ اس کی محنت پھل لائے گی۔ اسے چاہیے کہ وہ باقاعدگی کے ساتھ نماز پنجگانہ ادا کرنے کے ساتھ 100 بار اللہ الصمد اور 70 بار استغفار پڑھا کریں۔ اللہ مجدہ بخشنے والا ہے، اخلاص سے سچی توبہ کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

اہم سوالات
  • بٹ کوئن کی ٹریڈنگ کا کیا حکم ہے؟
  • کاروباری شراکت کے اسلامی اصول کیا ہیں؟
  • وطن سے محبت کی شرعی حیثیت کیا ہے؟