Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - اپنے مقدر کو کوسنے والے کے بارے میں کیا حکم ہے؟

اپنے مقدر کو کوسنے والے کے بارے میں کیا حکم ہے؟

موضوع: معاملات

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد عابد       مقام: سیالکوٹ، پاکستان

سوال نمبر 1040:
اگر کوئی شخص کہے کہ پتہ نہیں‌ میرے حالات کب ٹھیک ہوں گے، اگر میرے حالات ایسے ہی رہنے ہیں تو اللہ مجھے پیدا ہی نہ کرتا۔ نہ تو میں اپنے ماں باپ اور بہن بھائیوں کو کوئی فائدہ دے سکا ہوں بلکہ ان پر بوجھ بنا ہوا ہوں اور میری بیوی کو کوئی اچھا آدمی مل جاتا جس سے اس کی اور اس کے بچوں کی زندگی اچھی ہو جاتی۔ مجھے اپنی زندگی بے مقصد اور بے فائدہ نظر آرہی ہے۔ ایسے کہنے یا سوچنے والے کے بارے میں کیا حکم ہے۔

جواب:

ایسے کلمات سے اجتناب ضروری ہے، یہ مایوسی اور ناامیدی ہے جو کہ حرام ہے اور بعض صورتوں میں کفر ہے۔

اللہ تعالیٰ رازق ہے، اس نے سب سے رزق کا وعدہ فرمایا ہے، اس شخص کو چاہے کہ وہ محنت کرے اللہ تعالیٰ کسی کی محنت ضائع نہیں کرتا ان شاء اللہ اس کی محنت پھل لائے گی۔ اسے چاہیے کہ وہ باقاعدگی کے ساتھ نماز پنجگانہ ادا کرنے کے ساتھ 100 بار اللہ الصمد اور 70 بار استغفار پڑھا کریں۔ اللہ مجدہ بخشنے والا ہے، اخلاص سے سچی توبہ کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: صاحبزادہ بدر عالم جان

تاریخ اشاعت: 2011-06-16


Your Comments