Fatwa Online Durood-e-Minhaj
Home Latest Questions Most Visited Ask Scholar
   
فتویٰ آن لائن - میاں اور بیوی کے معاملہ میں کس کی گواہی قبول کی جائے گی؟

میاں اور بیوی کے معاملہ میں کس کی گواہی قبول کی جائے گی؟

موضوع: نکاح   |  طلاق

سوال پوچھنے والے کا نام: اظہار القدوس نوشاہی       مقام: اسلام آباد، پاکستان

سوال نمبر 1033:
ہمارے ہمسائے میں ایک صاحب نے اپنی حاملہ بیوی کو تین دفعہ طلاق دے دی جس کا کوئی گواہ نہیں ہے۔ اگلے دن وہ شخص اپنی بات سے پھر گیا اور اس نے قرآن پر قسم اٹھا لی کے میں نے طلاق نہیں دی جب کہ اس کی بیوی نے بھی قرآن پر قسم اٹھائی ہے کہ اس شخص نے واقعی تین دفعہ طلاق دے دی ہے اور اب وہ اپنے والدین کے گھر یہ کہ کر چلی گئی ہے کہ میں گناہ کی زندگی نہیں گزار سکتی۔ اب اس خاتون کا سوال ہے کہ اس کا فیصلہ کس طرح ہو گا اور اگر وہ دوبارہ شادی کرنا چاہیں تو ان کے پاس پہلی شادی کے ختم ہونے کا کوئی ثبوت نہیں اور اس وجہ سے مشکلات درپیش ہو سکتی ہیں ۔ اگر اس کا فیصلہ عدالت سے ہو جیسا کہ ان کو بعض لوگوں نے مشورہ دیا ہے تو کیا ان کو حق مہر ملے گا یا نہیں کیوں کہ غالب گمان یہ ہے کہ شوہر حق مہر ادا نہ کرنے کہ وجہ سے ہی اپنی بات سے پھر گیا ہے۔ اگر عدالت شوہر کے حق میں فیصلہ کر دے اور عورت کو طلاق کا یقین ہو تو پھر طلاق ہونے یا نہ ہونے اور حق مہر کے بارے میں کیا حکم ہے۔

جواب:
اگر دونوں نے قرآن پر قسم اٹھائی ہے تو پھر خاوند کی بات مانی جائے گی، بیوی کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ یہ فقہاء کرام کا قاعدہ ہے کہ جب میاں بیوی میں اختلاف ہو جائے تو بیوی ثبوت پیش کرے گی اگر وہ ایسا نہ کر سکتے تو خاوند کی بات مانی جائے گی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی: عبدالقیوم ہزاروی

تاریخ اشاعت: 2011-06-14


Your Comments