Fatwa Online

کیا انسان نیک اور بد دونوں اعمال اللہ تعالیٰ کے حکم سے کرتا ہے؟

سوال نمبر:884

نیک اعمال کرنے اور برائی سے بچنے کی طاقت اللہ کی طرف سے ہے تو پھر برائی کرنے اور نیکی سے بچنے کی طاقت کس کی طرف سے ہے؟ اگر اللہ ہی کی طرف سے ہے تو پھر وہ یہ طاقت کیوں دیتا ہے؟ اور پھر برائی کرنے کی سزا بھی؟

سوال پوچھنے والے کا نام: محمد وقاص احمد

  • مقام: لاہور، پاکستان
  • تاریخ اشاعت: 30 نومبر -0001ء

موضوع:عقائد

جواب:
تمام اہل اسلام کا عقیدہ ہے کہ ہر چیز کا خالق اللہ مجدہ ہے خواہ نیکی ہو یا برائی۔ سورہ النساء آیت نمبر 78 میں ارشاد فرمایا :

قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِندِ اللّهِ

(النِّسَآء، 4 : 78)

آپ فرما دیں: (حقیقۃً) سب کچھ اللہ کی طرف سے (ہوتا) ہے۔

وہ طاقتور ذات ہے جو نیکی اور برائی کی طاقت دے بھی سکتا ہے اور سلب بھی کر سکتا ہے آپ کا سوال یہ ہے کہ برائی کی توفیق بھی دے اور سزا بھی؟

اصل بات یہ ہے کہ ہر چیز کا خالق اللہ ہے اور سب پر عمل کرنے والا انسان خود ہے اگر سوال ہی نہ ہو تو امتحان کس چیز کا یعنی کہ بُرائی بھی نہ ہو تو پھر سزا کس بات کی۔ اس لیے قرآن مجید میں ایک اور جگہ ارشاد فرمایا :

وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِo

(الْبَلَد، 90 : 10)

اور ہم نے اسے (خیر و شر کے) دو نمایاں راستے (بھی) دکھا دیئےo

انسان کو ہم نے دونوں راستے بتا دیے ہیں کہ یہ برائی کا راستہ ہے اور یہ نیکی کا راستہ اور انسان کو اختیار دیا گیا ہے کہ چاہے وہ اللہ کی اطاعت کرے یا شیطان کی۔ اگر وہ برائی کرتا ہے تو یہ اس کا اپنا فعل ہے اور اپنی مرضی سے کیا ہے اس لیے اس کو سزا دی جائے گی۔

اگر انسان نیکی کرتا ہے تو اس پر اسے جزا دی جاتی ہے۔ لہذا قیامت کے دن ان چیزوں کے بارے میں پوچھا جائے گا جو انسان کے اختیار میں ہو۔ جو چیز انسان کے اختیار میں نہ ہو اس کے بارے میں کوئی سوال ہی نہیں مثلا بارش برسنا، اولاد دینا اور مریض کو شفا دینا وغیرہ۔ اسکے بارے میں کوئی سوال نہیں ہوگا اس لیے کہ یہ انسان کی طاقت سے باہر ہے۔

یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ کی طاقت اور اس کی قدرت پر دلالت کرتی ہیں کہ وہ چاہے تو سب کچھ سلب کرسکتا ہے اور چاہے تو سب کچھ دے سکتا ہے یہ اس کی قدرت ہے لیکن قانون یہ ہے کہ انسان نیکی اور برائی کرنے پر مختار ہے چاہے وہ نیکی کرے یا برائی۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی:صاحبزادہ بدر عالم جان

Print Date : 20 January, 2021 04:33:05 AM

Taken From : https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/884/