Fatwa Online

کیا خلوتِ صحیحہ سے قبل دی جانے والی طلاقِ ثلاثہ کے بعد رجوع کیا جاسکتا ہے؟

سوال نمبر:6003

کیا فرماتے ہیں علمائے دین شرعِ متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ایک شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیتا ہے یعنی یوں کہتا ہے کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں ابھی رخصتی نہیں ہوئی اور رخصتی سے پہلے ہی طلاق دیدی ہے۔ اب دونوں دوبارہ بطورِ میاں بیوی رہنا چاہتے ہیں۔ اس کا شرعی حل بتائیں۔ بيّنوا تُوجَرُوا

سوال پوچھنے والے کا نام: آیان ثناءاللہ

  • مقام: لاہور
  • تاریخ اشاعت: 01 دسمبر 2021ء

موضوع:طلاق مغلظہ(ثلاثہ)   |  طلاق

جواب:

بصورتِ مسئولہ طلاق بائن واقع ہو چکی ہے کیونکہ غیر مدخولہ عورت ایک طلاق کا محل ہوتی ہے، اس لیے پہلی طلاق سے نکاح ختم ہو گیا ہے دوسری اور تیسری طلاقیں، محل طلاق نہ ہونے کی وجہ سے واقع نہیں ہوئیں۔ اگر وہ دونوں دوبارہ بطورِ میاں بیوی ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو نئے حق مہر کے ساتھ نکاحِ جدید کر کے ازدواجی تعلقات قائم کر سکتے ہیں۔

رخصتی یا خلوتِ صحیحہ سے پہلے دی جانے والی طلاق کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا فَمَتِّعُوهُنَّ وَسَرِّحُوهُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًاo

’’اے ایمان والو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو پھر تم انہیں طلاق دے دو قبل اس کے کہ تم انہیں مَس کرو (یعنی خلوتِ صحیحہ کرو) تو تمہارے لیے ان پر کوئی عدّت (واجب) نہیں ہے کہ تم اسے شمار کرنے لگو، پس انہیں کچھ مال و متاع دو اور انہیں اچھی طرح حُسنِ سلوک کے ساتھ رخصت کرو۔‘‘

الاحزاب، 33: 49

آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ رخصتی یا خلوت صحیحہ سے پہلے طلاق دینے کی صورت میں عدت نہیں ہے۔ اس طلاق کے منعقد ہونے کے بارے میں سیدنا علی علیہ السلام سے مروی ہے کہ:

إذَا طَلَّقَ الْبِكْرَ وَاحِدَةً فَقَدْ بَتَّهَا، وَإِذَا طَلَّقَهَا ثَلاَثًا لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ.

اگر کسی آدمی نے باکرہ کو ایک طلاق دی تو وہ بائنہ ہو جائے گی اور اگر اسے دخول سے پہلے اکٹھی تین طلاقیں دیدے تو وہ عورت اس مرد کے لئے اس وقت تک حلال نہیں جب تک کسی دوسرے شوہر سے نکاح نہ کر لے۔‘‘

ابن أبي شيبة، المصنف، كتاب الطلاق، باب في الرجل يتزوج المرأة ثم يطلقها، 4: 66، رقم:17853، الرياض: المكتبة الرشد

اس روایت کی وضاحت حضرت حکم کی درج ذیل روایت سے ہوتی ہے:

عَنْ مُطَرِّفٍ ،عَنِ الْحَكَمِ؛ فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لاِمْرَأَتِهِ: أَنْتِ طَالِقٌ أَنْتِ طَالِقٌ، أَنْتِ طَالِقٌ، قَالَ: بَانَتْ بِالأُولَى وَالأُخْرَيَانِ لَيْسَ بِشَيْءٍ، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ يَقُولُ هَذَا؟ قَالَ: عَلِيٌّ، وَزَيْدٌ، وَغَيْرُهُمَا، يَعْنِي قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا.

’’حضرت حکم رحمہ اللہ سے ایک شخص کے بارے میں روایت ہے کہ اس نے اپنی بیوی کو کہا: تمہیں طلاق ہے، تمہیں طلاق ہے، تمہیں طلاق ہے۔ انہوں نے فرمایا: پہلی طلاق بائن سے نکاح ختم ہو گیا اور باقی دونوں کی کوئی حیثیت نہیں۔ حضرت مطرف رحمہ اللہ کہتے ہیں، میں نے ان سے پوچھا یہ کس کا فتویٰ ہے؟ انہوں نے فرمایا: حضرت علی و زید رضی اللہ عنہما اور ان کے علاوہ۔ دیگر یعنی اس صورت میں یہ حکم ہے کہ جب عورت غیر مدخولہ ہو۔‘‘

ابن أبي شيبة، المصنف، كتاب الطلاق، باب في الرجل يقول لأمرأته أنت طالق أنت طالق أنت طالق قبل أن يدخل عليها متى يقع عليها، 4: 68، رقم:17871

غیر مدخول بِھا کی طلاق کے بارے میں ہدایہ، فتح القدیر اور فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

فَإِنْ فَرَّقَ الطَّلَاقَ بَانَتْ بِالْأُولَى وَلَمْ تَقَعْ الثَّانِيَةُ وَالثَّالِثَةُ وَذَلِكَ مِثْلُ أَنْ يَقُولَ: أَنْتِ طَالِقٌ طَالِقٌ طَالِقٌ لِأَنَّ كُلَّ وَاحِدَةٍ.

’’اگر شوہر نے غیر مدخولہ (نہ ہمبستری ہوئی اور نہ خلوت صحیحہ) بیوی کو الگ الگ تین طلاقیں دیں تو پہلی طلاق سے بائن ہو جائے گی یعنی نکاح ختم ہو جائے گا، دوسری اور تیسری واقع نہیں ہوں گی۔ مثلاً شوہر یوں کہے کہ تجھے طلاق، تجھے طلاق، تجھے طلاق، ان میں سے ہر ایک الگ الگ طلاق ہے۔‘‘

  1. المرغيناني، الهداية، فصل في الطلاق قبل الدخول، 1: 240، المکتبة الاسلامية
  2. ابن الهمام، فتح القدير، 4: 55، بيروت: دار الفکر
  3. الشيخ نظام وجماعة من علماء الهند، الفتاوی الهندية، 1: 373، دار الفکر

امام زین الدین ابن نجیم رحمہ اللہ رخصتی سے پہلے طلاق کے بارے میں فرماتے ہیں:

وَإِنْ فَرَّقَ بَانَتْ بِوَاحِدَةٍ أَيْ وَإِنْ فَرَّقَ الطَّلَاقَ بِغَيْرِ حَرْفِ الْعَطْفِ وَيُمْكِنُ جَمْعُهُ بِعِبَارَةٍ وَاحِدَةٍ فَإِنَّهَا تَبِينُ بِالْأُولَى لَا إلَى عِدَّةٍ فَلَا يَقَعُ ما بَعْدَهُ إذْ لَيْسَ فِي آخِرِ كَلَامِهِ مَا يُغَيِّرُ أَوَّلَهُ لِيَتَوَقَّفَ عَلَيْهِ نَحْوُ أَنْتِ طَالِقٌ طَالِقٌ طَالِقٌ أو أَنْتِ طَالِقٌ أَنْتِ طَالِقٌ أَنْتِ طَالِقٌ.

’’اگر خاوند نے (غیر مدخول بہا کو) طلاق دی تو وہ ایک (طلاق) سے بائنہ ہو جائے گی۔ جیسے شوہر نے حرف عطف کے بغیر الگ الگ طلاق دی اور ان کو ایک عبارت میں جمع کرنا ممکن ہو تو پہلی طلاق سے بائنہ ہو جائے گی یعنی اسے طلاق بائن ہو جائے گی، اس میں عدت نہیں غیر مدخولہ کے لیے بعد والی طلاق نہیں ہو گی کیونکہ کلام میں کوئی ایسا لفظ نہیں جو پہلے کو بدل دے کہ وہ اس پر موقوف ہو جائے۔ مثلاً؛ تو طلاق والی، طلاق والی، طلاق والی یا تجھے طلاق، تجھے طلاق، تجھے طلاق۔‘‘

ابن نجيم، البحر الرائق، كتاب الطلاق، فصل في الطلاق قبل الدخول، 3: 315، بيروت: دار المعرفة

علامہ محمد بن علی الحصکفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

(وَإِنْ فَرَّقَ) بِوَصْفٍ أَوْ خَبَرٍ أَوْ جُمَلٍ بِعَطْفٍ أَوْ غَيْرِهِ (بَانَتْ بِالْأُولَى) لَا إلَى عِدَّةٍ (وَ) لِذَا (لَمْ تَقَعْ الثَّانِيَةُ) بِخِلَافِ الْمَوْطُوءَةِ حَيْثُ يَقَعُ الْكُلُّ.

’’اگر وصف، خبر یا جملوں خواہ جملے عطف کے ساتھ ہوں یا عطف کے بغیر ہوں کسی نے الگ الگ طلاقیں دیں تو غیر مدخول بہا پہلی طلاق سے بائنہ ہو جائے گی عدت کے بغیر ہی اس وجہ سے دوسری طلاق واقع نہ ہو گی۔ مدخول بہا کا معاملہ مختلف ہے کہ اس پر تمام طلاقیں واقع ہوں گی۔‘‘

حصکفی، الدرالمختار، كتاب الطلاق، باب طلاق غير المدخول بها، 3: 286، بيروت: دار الفكر

مذکورہ بالا تصریحات سے معلوم ہوا کہ رخصتی، دخول یا خلوتِ صحیحہ (میاں بیوی کی ایسی ملاقات جس میں انہیں مباشرت کا مکمل موقعہ میسر ہو اور کوئی امر مانع نہ ہو) سے پہلے طلاق اور نئے نکاح کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں:

1. اگر شوہر الگ الگ تین بار طلاق دے تو پہلی ایک طلاق واقع ہوگی اور نکاح فوراً ختم ہوجائے گا۔ باقی دونوں طلاقیں فضول ہوں گی، کیونکہ پہلی طلاق سے نکاح ختم ہوچکا ہے اور وہ عورت طلاق کا محل نہیں رہی۔ نکاح کے ختم ہونے کے بعد عورت آزاد ہے جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے۔ اگر پہلے والا شخص ہی اس کے ساتھ نکاح کرنا چاہتا ہے تو نیا حق مہر دے کر نئے نکاح کے بعد دونوں اکٹھے رہ سکتے ہیں۔

2. اگر شوہر نے تینوں طلاقیں اکٹھی دیں، جیسے ’تجھے تین طلاق‘ یا ’میں تجھے تین طلاق دیتا ہوں‘ تو پھر تینوں اکٹھی واقع ہوں گی۔ اس صورت میں پہلے والا شخص اس عورت کے ساتھ دوبارہ نکاح نہیں کرسکتا جب تک کہ وہ کسی دوسرے شخص سے شادی نہ کر لے اور بعد میں بیوہ یا مطلقہ نہ ہوجائے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی:محمد شبیر قادری

Print Date : 26 June, 2022 03:48:57 PM

Taken From : https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/6003/