Fatwa Online

زبردستی کے نکاح کا کیا حکم ہے؟

سوال نمبر:5719

السلام علیکم! مفتی صاحب ایک لڑکی کے والد 2014 میں فوت ہوگئے تھے۔ والد کی وفات کے بعد اس کے بھائی اور چچا نے اس کا رشتہ اس کے ایک چچازاد کے ساتھ طے کر دیا۔ لڑکی نے اسے بتایا کہ وہ اس رشتے کے لیے راضی نہیں ہے۔ لڑکی نے باری باری سب سے بات کی، سب کی منتیں کیں، ان کو قرآن، اللہ و رسول کے واسطے دیے، جس چچازاد سے میری شادی کرنا چاہتے تھے اسے کہا کہ وہ اس شادی کے لیے راضی نہیں ہے، اس کی منت سماجت کی کہ تم انکار کر دو مگر کسی نے اس کی بات نہیں سنی۔ آخر 19 اپریل 2015 کو زبردستی اس کا نکاح ہونے لگا تو بھی وہ واسطے دیتی رہی، منتیں کرتی رہی لیکن اس کے چچا اور پھوپھو نے اس کا ہاتھ پکڑ کر زبردستی اس میں پین پکڑا کے خود ہی نکاح فارم پر دستخط کیے جو سراسر ظلم تھا۔ لڑکی کے پاس گواہ کے طور پے سورہ یاسین تھی جو اس نے پکڑ رکھی تھی۔ اس کے بعد زبردستی اس کی رخصتی کر دی گئی۔ لڑکی نے اس لڑکے کو بتایا کہ میں اپنی بات پر قائم ہوں، میرے ساتھ سب کچھ زبردستی ہوا ہے اور میں اس نکاح کو نہیں مانتی۔ پھر سسرالیوں نے اس پر تشدد کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کر دیا۔ اس پر تشدد کرتے ہوئے وہ لڑکی کو رشتہ قبول کرنےکے لیے کہتے لیکن لڑکی ہمیشہ انکار کرتی رہی۔ 5 سال سے انہوں نے لڑکی کو اس جھوٹے رشتے میں باندھے رکھا۔ لڑکی اپنی بیوہ والدہ کے پاس رہتی ہے۔ سسرالی رشتہ دار ابھی تک لڑکی کی جان نہیں چھوڑ رہے۔ مفتی صاحب کیا ایسے زبردستی نکاح ہو جاتا ہے؟ اس کی نکاح کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اگر لڑکی اس حالت میں کسی دوسرے شخص سے شادی کرتی ہے تو کیا حکم ہے؟

سوال پوچھنے والے کا نام: نگہت بی بی

  • مقام: اٹک
  • تاریخ اشاعت: 07 اپریل 2020ء

موضوع:نکاح

جواب:

کسی شخص سے زبردستی مجبور کر کے وہ کام کروانا جس کو وہ کرنا نہ چاہتا ہو جبر واکراہ کہلاتا ہے۔ ایسے شخص کو مکرہ کہتے ہیں۔ ابو منصور محمد بن احمد مکرہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں:

وَأمْرةٌ كَرِيْهٌ: مَكْرُوْهٌ، وَامْرَأَةٌ مُسْتَكْرَهَةٌ إِذا غُصِبَتْ نَفْسُهَا، وَأَكْرَهْتُ فلَاناً: حَمَلْتُهُ عَلَى أَمْرٍ هُوَلَهُ كَارِهٌ، وَالْكَرِيْهَةُ الشِدَّةِ فِي الْحَرْبِ، وَكَذَلِكَ كَرَايِهُ الدَّهْرِ: نَوَازِلُ الدَّهْرِ.

مکروہ وناپسندیدہ بات، عورت کو مکرہ کیا گیا، جب اس کے نفس کو غصب کیا جائے، میں نے فلاں کو مکرہ کیا، اسے اس کی ناپسندیدہ بات پر مجبور کیا۔ جنگ میں شدّت، یونہی زمانے کے مصائب وآلام۔

الأزهري، تهذيب اللغة، 6: 11، بيروت: دار إحياء التراث العربي

صاحبِ العین خلیل بن احمد الفراھیدی اور ابن منظور الافریقی بیان کرتے ہیں:

وَأَكْرَهْتُهُ حَمَلْتُهُ عَلَى أَمْرٍ وَّهُوَ كَارِهٌ.

میں نے اسے ایسے کام پر مجبور کیا جس کو وہ ناپسند کرتا تھا۔

  1. فراهيدي، العين، 3: 376، دار ومكتبة الهلال
  2. ابن منظور، لسان العرب، 13: 535، بيروت: دار صادر

دینِ اسلام میں جبرواکراہ نہیں ہے جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ.

دین میں کوئی زبردستی نہیں۔

البقرة، 2: 256

حدیث مبارکہ میں بھی زبردستی کروائے گئے امور کی نفی کی گئی ہے:

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِنَّ اللَّهَ وَضَعَ عَنْ أُمَّتِي الْخَطَأَ، وَالنِّسْيَانَ، وَمَا اسْتُكْرِهُوا عَلَيْهِ.

حضرت ابن عباس ضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے میری امت سے خطاء، سہو اور جبر و اکراہ معاف فرمایا ہے۔

(امام حاکم فرماتے ہیں: یہ حدیث امام بخاری وامام مسلم کی شرائط کے مطابق صحیح ہے لیکن انہوں نے اس کو روایت نہیں کیا)

  1. ابن ماجه، السنن، كتاب الطلاق، باب طلاق المكره والناسي، 1: 659، رقم: 2045، بيروت: دارالفكر
  2. حاكم، المستدرك على الصحيحين، 2: 216، رقم: 2801، بيروت: دار الكتب العلمية
  3. بيهقي، السنن، كتاب الإقرار، باب من لا يجوز إقراره، 7: 356، 14871، مكة المكرمة: مكتبة دارالباز

مذکورہ بالا دلائل سے معلوم ہوا کہ اسلام میں جبر کو بالکل پسند نہیں کیا گیا اور نہ ہی جبرواکراہ سے کروائے گئے امور قابلِ قبول ہیں۔ اور جبراً کئے گئے نکاح سے تو ویسے بھی مقصدِ نکاح فوت ہو جاتا ہے کیونکہ میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ پیار محبت کی بجائے نفرت کریں گے تو زندگی عذاب بن کر رہ جائے گی اور جب جوڑا ایک دوسرے سے سکون نہیں پائے گا تو نکاح بے مقصد ہو جائے گا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَo

اور یہ (بھی) اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان کی طرف سکون پاؤ اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی، بے شک اس (نظامِ تخلیق) میں ان لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں جو غور و فکر کرتے ہیں۔

الروم، 30: 21

اسلام میں صرف یکطرفہ پسند کی شادی کا حکم نہیں بلکہ دونوں کی رضا مندی اور پسند کا احترام کیا گیا ہے جس طرح مردوں کو پسند کی عورتوں سے شادی کرنے کا حکم ہے اسی طرح احادیث مبارکہ میں لڑکی کی اجازت کے بغیر نکاح کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ حضرت ابو ہریرہg سے روایت ہے کہ حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:

لاَ تُنْكَحُ الأَيِّمُ حَتَّى تُسْتَأْمَرَ، وَلاَ تُنْكَحُ البِكْرُ حَتَّى تُسْتَأْذَنَ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَكَيْفَ إِذْنُهَا؟ قَالَ: أَنْ تَسْكُتَ.

بیوہ کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے اور کنوای لڑکی کا نکاح بھی اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے۔ لوگوں نے عرض کی: یاسول اللہ ! کنواری کی اجازت کیسے معلوم ہوتی ہے؟ فرمایا اگر پوچھنے پر وہ خاموش ہوجائے تو یہ بھی اجازت ہے۔

  1. بخاري، الصحيح، كتاب النكاح، باب لا ينكح الأب وغيره البكر والثيب إلا برضاها، 5: 1974، رقم: 4843، بيروت: دار ابن كثير اليمامة
  2. مسلم، الصحيح، كتاب النكاح، باب استئذان الثيب في النكاح بالنطق والبكر بالسكوت، 2: 1036، رقم: 1419، بيروت: دار إحياء التراث العربي

ایک روایت میں ہے:

عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ البِكْرَ تَسْتَحِي؟ قَالَ: رِضَاهَا صَمْتُهَا.

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بارگاہِ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں عرض کی: یارسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )! کنواری لڑکی تو (نکاح کی) اجازت دینے سے شرماتی ہے ارشاد فرمایا کہ اس کا خاموش ہوجانا ہی اجازت دینا ہے۔

  1. بخاري، الصحيح، كتاب النكاح، باب لا ينكح الأب وغيره البكر والثيب إلا برضاها، 5: 1974، رقم: 4844
  2. ابن حبان، الصحيح، 9: 394، رقم: 4082، بيروت: مؤسسة الرسالة
  3. أبي عوانة، المسند، 3: 75، رقم: 4248، بيروت: دار المعرفة

رسول الله صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں جب بھی کسی لڑکی کی مرضی کے خلاف کئے گئے نکاح کا کیس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس نکاح کو منسوخ فرما دیا اور کبھی لڑکی کو اختیار دے دیا کہ وہ اس نکاح کو رکھ لے یا ردّ کر دے۔ یعنی کبھی بھی لڑکی کی مرضی کے خلاف نکاح کو لڑکی پر مسلّط نہیں کیا۔ سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ہمیشہ جبری شادی کی حوصلہ شکنی کا درس ملتا ہے۔ جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دورِ اقدس میں ایک لڑکی کے والد ماجد نے اُس کی مرضی کے خلاف نکاح کیا تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گئی کہ میں اس نکاح میں راضی نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نکاح منسوخ قرار دے دیا جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے۔ حضرت خنساء بنتِ خِذام اَنصاریہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:

إِنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ ثَيِّبٌ فَكَرِهَتْ ذَلِكَ فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّ نِكَاحَهَا.

ان کے والد ماجد نے ان کی شادی کر دی جبکہ وہ بیوہ تھیں، مگر اُنہیں یہ شادی ناپسند تھی۔ سو وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن کا نکاح منسوخ فرما دیا۔

  1. بخاري، الصحيح، كتاب الإكراه، باب لا يجوز نكاح المكره، 6: 2547، رقم: 6546
  2. أبو داود، السنن، كتاب النكاح، باب في الثيب، 2: 233، رقم: 2101، بيروت: دار الفكر
  3. دارمي، السنن، كتاب النكاح، باب الثيب يزوجها أبوها وهي كارهة، 2: 187، رقم: دار الكتاب العربي

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لڑکی کی مرضی کے خلاف باپ کا کیا ہوا نکاح منسوخ فرما کر لڑکی کی پسند ضروری قرار دے دی۔ اور یہ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جبری شادی کے عدم جواز پر ٹھوس دلیل ہے۔ اس موضوع پر متعدد احادیث مبارکہ بیان کی گئی ہیں:

عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ أَبِي وَنِعْمَ الْأَبُ هُوَ، خَطَبَنِي إِلَيْهِ عَمُّ وَلَدِي فَرَدَّهُ، وَأَنْكَحَنِي رَجُلًا وَأَنَا كَارِهَةٌ. فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَبِيهَا، فَسَأَلَهُ عَنْ قَوْلِهَا، فَقَالَ: صَدَقَتْ، أَنْكَحْتُهَا وَلَمْ آلُهَا خَيْرًا. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا نِكَاحَ لَكِ، اذْهَبِي فَانْكِحِي مَنْ شِئْتِ.

حضرت ابو سلمہ بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے کہا کہ اے اللہ کے رسول! میرے چچا زاد بھائی نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا لیکن میرے والد نے اس رشتے کو رد کر دیا اور میری شادی ایسی جگہ کرادی جہاں مجھے پسند نہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے والد کو بلایا اور اس سے اس بارے میں سوال کیا۔ اس نے کہا کہ میں نے اس کا نکاح کرایا ہے اور اس کے لئے خیر کا ارادہ نہیں کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ تیرا نکاح نہیں ہوا، جاؤ اور جس سے چاہو نکاح کر لو۔

  1. سعيد بن منصور، السنن، كتاب الوصايا، باب ما جاء فى استئمار البكر والثيب، 1: 184، رقم: 568، الهند: الدار السلفية
  2. ابن أبي شيبة، السنن، كتاب النكاح، من أجازه بغير ولي ولم يفرق، 3: 457، رقم: 15953، الرياض: مكتبة الرشد

مذکورہ بالا حدیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ جب لڑکی کی رضامندی کے خلاف نکاح کیا جائے سرے سے منعقد ہی نہیں ہوتا۔ اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت بیان کی گئی ہے کہ وہ فرماتی ہیں:

جَاءَتْ فَتَاةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ أَبِي زَوَّجَنِي ابْنَ أَخِيهِ يَرْفَعُ بِي خَسِيسَتَهُ. فَجَعَلَ الْأَمْرَ إِلَيْهَا، قَالَتْ: فَإِنِّي قَدْ أَجَزْتُ مَا صَنَعَ أَبِي، وَلَكِنْ أَرَدْتُ أَنْ تَعْلَمَ النِّسَاءُ أَنْ لَيْسَ لِلْآبَاءِ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ.

ایک لڑکی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمتِ اقدس میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میرے باپ نے اپنے بھتیجے سے میرا نکاح کر دیا ہے تاکہ میرے ذریعہ سے (بھتیجے کی مالی معاونت حاصل کرے اور) اپنی مفلسی دور کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معاملہ اُس کے اختیار میں دے دیا (چاہے نکاح برقرار رکھے اور چاہے تو اس سے علیحدگی کر لے)۔ اس نے عرض کیا: میں اپنے والد کے نکاح کو برقرار رکھتی ہوں لیکن میں نے یہ اس لیے کیا کہ عورتوں کو معلوم ہو جائے کہ اولاد کے نکاح کے معاملے میں والدین کا (اولاد کی مرضی کے خلاف زبردستی کی صورت میں) کوئی حق لازم نہیں ہے۔

أحمد بن حنبل، المسند، 6: 136، رقم: 25087، مصر: مؤسسة قرطبة

یہاں بھی لڑکی کی مرضی پر چھوڑ دیا کہ وہ خود اختیار رکھتی ہے۔ اگلی روایت بھی لڑکی کے اختیار پر دلالت کرتی ہے:

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ جَارِيَةً بِكْرًا أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَتْ أَنَّ أَبَاهَا زَوَّجَهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ، فَخَيَّرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

حضرت عبد اللہ بن عباس ضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک کنواری لڑکی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں آئی اور عرض کیا کہ اس کے باپ نے اس کا نکاح زبردستی کر دیا حالانکہ وہ اُسے ناپسند کر رہی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اختیار دے دیا (چاہے تو نکاح برقرار رکھے اور چاہے تو اسے فسخ کر دے)۔

  1. أحمد بن حنبل، المسند، 1: 273، رقم: 2469
  2. أبو داود، السنن، كتاب النكاح، باب في البكر يزوجها أبوها ولا يستأمرها، 2: 132، رقم: 2096
  3. ابن ماجه، السنن، كتاب النكاح، باب من زوج ابنته وهي كارهة، 1: 603، رقم: 1875

کنواری، مطلقہ اور بیوہ تمام عورتوں کا نکاح اُن کی مرضی کے خلاف کرنا جائز نہیں ہے جیسا کہ حدیث مبارکہ میں ہے:

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَدَّ نِكَاحَ بَكْرٍ وَثَيِّبٍ أَنْكَحَهُمَا أَبُوهُمَا وَهُمَا كَارِهَتَانِ , فَرَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِكَاحَهُمَا.

حضرت عبد اللہ بن عباس ضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بالغہ (کنواری) اور بیوہ (یا طلاق یافتہ) عورتوں کے نکاح اس وجہ سے فاسد فرما دئیے کہ اُن کے والدین نے اُن کے نکاح ان کی مرضی کے خلاف کر دئیے تھے، لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن دونوں کے نکاح کو رَدّ فرما دیا۔

  1. دارقطبي، السنن، كتاب النكاح، 3: 234، رقم: 53، بيروت: دار المعرفة
  2. بيهقي، السنن الكبرى، كتاب النكاح، باب ما جاء في إنكاح الآباء الأبكار، 7: 117

حضرت یحییٰ بن سعید نے قاسم بن محمد بن ابو بکر سے روایت کی ہے:

أَنَّ امْرَأَةً مِنْ وَلَدِ جَعْفَرٍ، تَخَوَّفَتْ أَنْ يُزَوِّجَهَا وَلِيُّهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ، فَأَرْسَلَتْ إِلَى شَيْخَيْنِ مِنَ الأَنْصَارِ: عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَمُجَمِّعٍ ابْنَيْ جَارِيَةَ، قَالاَ: فَلاَ تَخْشَيْنَ، فَإِنَّ خَنْسَاءَ بِنْتَ خِذَامٍ أَنْكَحَهَا أَبُوهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ، فَرَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ.

حضرت جعفر طیار کی اولاد سے ایک عورت کو اندیشہ ہوا کہ اس کا ولی اس کا نکاح کر دے گا جبکہ وہ اس نکاح کو ناپسند کرتی تھی۔ چنانچہ اس نے انصار کے دو بزرگوں یعنی حضرت عبدالرحمن اور حضرت مجمع کے لیے پیغام اعانت بھیجا جو حضرت جاریہ کے صاحبزادے تھے۔ دونوں حضرات نے کہا کہ تم نہ ڈرو کیونکہ خنسا بنت خذام کا نکاح اس کے والد نے کر دیا تھا اور وہ اس نکاح کو ناپسند کرتی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس نکاح کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

بخاري، الصحيح، كتاب الحيل، باب في النكاح، 6: 2555، رقم: 6568

ایک روایت میں ہے:

عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، قَالَ: فَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ امْرَأَةٍ وَزَوْجِهَا وَهِيَ بَكْرٌ أَنْكَحَهَا أَبُوهَا وَهِيَ كَارِهَةٌ.

حضرت عطاء بن ابی رباح تابعی سے (مرسلاً) مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بالغہ عورت اور اس کے خاوند کے مابین تفریق کروا دی کیونکہ اس کے باپ نے (اپنی مرضی سے) اس کا نکاح کیا تھا اور وہ اس خاوند کو ناپسند کرتی تھی۔

دارقطبي، السنن، كتاب النكاح، 3: 234، رقم: 52

مذکورہ بالا احادیث مبارکہ میں واضح اور آسان الفاظ میں لڑکی کی مرضی کے خلاف کئے گئے نکاح کو ردّ کیا گیا ہے اور لڑکی کو نکاح میں اختیار دیا گیا ہے۔ اگر سوال میں لکھی ہوئی صورتحال واقعتاً درست ہے اور لڑکی کا نکاح جبراً کیا گیا ہے تو وہ نکاح سرے سے منعقد ہی نہیں ہوا کیونکہ باپ کا کیا ہوا جبری نکاح بھی قابلِ قبول نہیں ہے جبکہ مذکورہ لڑکی کا تو نکاح کرنے والے چچا اور پھوپھی ہیں جن کو نکاح کرنے کا حق ہی حاصل نہیں ہے۔ لہٰذا مذکورہ لڑکی قانونی اقدامات کے بعد جہاں چاہے مرضی سے دستور کے مطابق نکاح کر سکتی ہیں۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی:محمد شبیر قادری

Print Date : 26 October, 2020 01:36:08 AM

Taken From : https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/5719/