Fatwa Online

کیا والد کی جائیداد یا ترکہ سے حصہ مانگنے پر بیٹی گنہگار ہوگی؟

سوال نمبر:5690

السلام علیکم مفتی صاحب! کیا بیٹی باپ کی جائیداد یا ترکہ سے حصہ نہیں مانگ سکتی؟ کیا حصہ مانگنے سے وہ گنہگار ہوگی؟

سوال پوچھنے والے کا نام: زہرا شیخ

  • مقام: کراچی
  • تاریخ اشاعت: 24 جنوری 2020ء

موضوع:تقسیمِ وراثت

جواب:

اسلام نے عورتوں کو مردوں کے مساوی حقوق عطا کرتے ہوئے وراثت کا حق بھی عطا کیا ہے۔ ارشاد ربانی ہے:

لِّلرِّجَالِ نَصيِبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِّمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ نَصِيبًا مَّفْرُوضًاO

’’ماں باپ اور رشتے داروں کے ترکے میں خواہ وہ تھوڑا ہو یا زیادہ لڑکوں کا حصہ ہے اور ماں باپ اور رشتے داروں کے ترکے میں خواہ وہ تھوڑا ہو یا زیادہ لڑکیوں کا بھی حصہ ہے اور یہ حصے خدا کی طرف سے مقررہ ہیں۔‘‘

النساء، 4: 7

یعنی اُصولی طور پر لڑکا اور لڑکی دونوں وراثت میں اپنا اپنا مقررہ حصہ لینے کے حقدار ہیں اور کوئی شخص انہیں ان کے اس حق سے محروم نہیں کرسکتا۔

قرآن حکیم نے اولاد کے حق وراثت کا تعین کرتے ہوئے بھی خواتین کا حق وراثت بالتفصیل بیان کیا ہے:

يُوصِيكُمُ اللّهُ فِي أَوْلاَدِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ فَإِن كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِن كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِن كَانَ لَهُ وَلَدٌ فَإِن لَّمْ يَكُن لَّهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ فَإِن كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ.

’’تمہاری اولاد سے متعلق اللہ کا یہ تاکیدی حکم ہے کہ ترکے میں لڑکے کے لئے دو لڑکیوں کے برابر حصہ ہے۔ اگر اکیلی لڑکی ہو تو اسے آدھا ترکہ ملے گا اور (میت کے) ماں باپ میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصہ ملے گا بشرطیکہ وہ اپنے پیچھے اولاد بھی چھوڑے، اگر اس کے کوئی اولاد نہ ہو اور وارث ماں باپ ہی ہوں تو ماں کے لئے ایک تہائی (ماں باپ کے ساتھ) بھائی بہن بھی ہوں تو اس کی ماں کا چھٹا حصہ ہوگا۔‘‘

النساء، 4: 11

اس آیہ مبارکہ میں یہ امر قابلِ غور ہے کہ تقسیم کی اکائی لڑکی کا حصہ قرار دیا گیا ہے، یعنی سب کے حصے لڑکی کے حصے سے گنے جائیں گے۔ گویا تمام تقسیم اس محور کے گرد گھومے گی۔ جاہلیت میں لڑکیوں کو ترکے میں حصہ نہیں دیا جاتا تھا۔ جیسا کہ اکثر دوسرے مذاہب میں اب بھی ہے لیکن اسلام کی نظر میں لڑکی کو ترکے کا حصہ دینا کتنا ضروری ہے، وہ اس سے ظاہر ہے کہ پہلے تو تقسیم وراثت کی عمارت کی بنیاد ہی لڑکی کے حصے پر رکھی پھر ’یوصیکم ﷲ‘ کہہ کر فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا نہایت تاکیدی حکم ہے۔

اس آیت مبارکہ سے تقسیم کے یہ اصول معلوم ہوئے:

(1) اگر اولاد میں لڑکے اور لڑکیاں ہوں تو ایک لڑکے کو ایک لڑکی سے دگنا ملے گا اور اسی اصول پر سب ترکہ لڑکوں اور لڑکیوں میں تقسیم ہوگا، صرف لڑکوں کا ذکر نہیں کیا، کیونکہ اس صورت میں ظاہر ہے کہ وہ سب برابر کے حصے دار ہوں گے۔

(2) اگر اولاد میں لڑکا کوئی نہ ہو اور دو یا دو سے زیادہ لڑکیاں ہوں۔ تو ان کو بھی دو تہائی ہی ملے گا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل مبارک سے ان معنوں کی تائید ہوتی ہے۔ ایک صحابی سعد بن ربیع غزوہ احد میں شہید ہوگئے۔ انہوں نے اولاد میں صرف دو لڑکیاں چھوڑ دیں۔ سعد کے بھائی نے سارے ترکے پر قبضہ کر لیا اور لڑکیوں کو کچھ نہ دیا۔ اس پر سعد کی بیوہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور شکایت کی کہ سعد کی دو لڑکیاں موجود ہیں، لیکن ان کے چچا نے انہیں ان کے باپ کے ترکے میں سے ایک جبہ بھی نہیں دیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سعد کے بھائی کو بلوایا اور اسے حکم دیا کہ مرحوم کی دونوں بیٹیوں کو اس کے ترکے میں سے دو تہائی اور بیوہ کو آٹھواں حصہ دے دو اور بقیہ خود رکھ لو۔

  1. ترمذي، السنن، کتاب الفرائض، باب ما جاء في الميراث البنات، 4 : 414، رقم : 2092
  2. ابوداؤد، السنن، کتاب الفرائض، باب ماجاء في الميراث، 3 : 120، رقم : 2891

(3) اگر اولاد میں صرف ایک لڑکی ہو تواسے ترکے کا نصف ملے گا اور باقی نصف دوسرے رشتہ داروں میں تقسیم ہوگا۔

(4) اگر اولاد کے ساتھ میت کے ماں باپ بھی زندہ ہوں تو پہلے ان دونوں میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصہ ملے گا اور باقی دو تہائی مندرجہ بالا شرح سے اولاد کو ملے گا۔

(5) اگر متوفی کے اولاد کوئی نہ ہو، صرف ماں باپ ہوں، تو اس صورت میں ترکے کا تہائی ماں کو اور باقی باپ کو ملے گا۔

(6) آخری صورت یہ بیان کی کہ اگر متوفی کے ورثا میں ماں باپ کے ساتھ بھائی بہن بھی ہوں، تو ماں کا حصہ چھٹا ہوگا۔

ممکن تھا کہ کوئی شخص ماں باپ کو اولاد کا وارث قرار دینے پر اعتراض کرتا، کیونکہ اس سے پہلے دنیا کے تمام مذاہب میں صرف اولاد ہی وارث قرار دی گئی تھی۔ اس لئے فرمایا:

آبَآؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لاَ تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعاً فَرِيضَةً مِّنَ اللّهِ إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًاO

’’تمہارے باپ دادا (بھی ہیں) اور اولاد بھی، لیکن تم نہیں جانتے کہ ان میں سے نفع رسانی کے لحاظ سے کون تمہارے زیادہ قریب ہے۔ (یہ حصے) اللہ نے مقرر کئے ہیں۔ بے شک اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔‘‘

النساء، 4: 11

یعنی یہ اعتراض کہ باپ دادا کیوں وارث بنائے گئے نادانی کی بات ہے۔ اس حکم کی حکمت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ انسان کے لئے اوپر کے رشتے دار زیادہ اچھے ہیں یا نیچے کے۔ ہماری فلاح اللہ تعالیٰ کے احکام پر عمل کرنے میں ہی مضمر ہے۔

قرآن حکیم نے شوہر یا بیوی میں سے کسی کے بھی انتقال کی صورت میں اس کے مال وراثت میں سے دوسرے فریق کا حصہ بالتفصیل بیان کیا ہے۔ بیوی کے انتقال کی صورت میں خاوند کا حصہ بیان کرتے ہوئے کہا:

وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّهُنَّ وَلَدٌ فَإِن كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِن بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ.

’’تمہاری بیویوں کے ترکے میں سے تمہارے لئے نصف ہے، اگر ان کے کوئی اولاد نہ ہو، اور اگر ان کے اولاد ہو تو تمہارے لئے اُنہوں نے جو ترکہ چھوڑا ہے اس کا ایک چوتھائی ہے (یہ تقسیم) ان کی وصیت (کی تعمیل) اور ان کے قرض (کی ادائیگی) کے بعد ہو گی۔‘‘

النساء، 4: 12

اور شوہر کی وفات کی صورت میں بتایا:

وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ.

’’ اور تمہارے ترکے میں سے تمہاری بیویوں کا ایک چوتھائی حصہ ہے۔ اگر تمہارے کوئی اولاد نہیں۔ اگر تمہاری اولاد بھی ہو، تو تمہارے ترکے میں سے ان کا حصہ آٹھواں ہے۔ (یہ تقسیم) تمہاری وصیت کی تعمیل اور تمہارے قرض (کی ادائیگی) کے بعد ہو گی۔‘‘

النساء، 4: 12

درج بالا آیات و روایات کا حاصل یہ ہے کہ اسلام میں بیٹی کا حقِ وراثت بہت اہمیت کا حامل ہے۔ دورِ جاہلیت میں بیٹیوں کو وراثت سے محروم رکھا جاتا تھا مگر اسلام نے بیٹی کو وراثت میں حصہ دینے کی نا صرف ترغیب دی بلکہ اس کا باقاعدہ حصہ مقرر کیا۔ مملکتِ خداداد سمیت دنیا کے تمام ممالک میں خواتین کو وراثت سے محروم کرنا قابلِ سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔ ایامِ جاہلیت کی طرح بدقسمتی سے دورِ حاضر میں بھی بیٹی کو بوجھ سمجھا جاتا ہے اور اسے حقِ وراثت سمیت دیگر مقررہ حقوق دینے میں بھی لیت و لعل سے کام لیا جاتا ہے اور حقوق کا مطالبہ کرنے کو بےشرمی و لادینیت قرار دیا جاتا ہے۔ حالانکہ والدین اور اعزاء و اقرباء کا بیٹیوں کے ساتھ یہ سلوک بذاتِ خود دین سے دوری یا شرعی احکام کی غلط تعبیرات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمزوری کا اظہار ہے۔ پڑھا لکھا طبقہ اور دینی ذہن رکھنے والے افراد بھی بیٹیوں اور بہنوں کو وراثت میں حصہ دینے سے کتراتے ہیں۔ اسلام نے اپنے ماننے والوں پر لازم کیا ہے کہ عورتوں کو وراثت میں شریعت اسلامیہ کے مطابق حصہ دیں تاکہ روز قیامت اللہ تبارک وتعالیٰ کے سامنے اس شرمندگی سے بچ سکیں اور معاشرہ بھی اخلاقی بگاڑ سے محفوظ رہ سکے۔

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

Print Date : 12 July, 2020 02:20:28 PM

Taken From : https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/5690/