Fatwa Online

کیا دیوان متنبی کے مصنف نے دعویٰ‌ نبوت کیا تھا؟

سوال نمبر:5222

سلام مسنون! حضرت مفتی صاحب درسی نظامی کی کتاب ’المتنبی‘ کے مصنف بارے میں مشہور ہے کہ انہوں نے نبوت کا دعوی کیا تھا۔ کیا یہ بات درست ہے؟ نیز یہ فرمائیں کہ مرتد ہونے کے بعد دوبارہ اسلام میں آنے کے لئے مرتد کی سزا معطل ہو جائے گی؟ والسلام

سوال پوچھنے والے کا نام: سید وقا ص حسین شاہ کاظمی

  • مقام: پشاور
  • تاریخ اشاعت: 09 مارچ 2019ء

موضوع:اسلامی تاریخ

جواب:

المتنبی کا اصل نام ابوطیب احمد بن حسین بن حسن بن عبدالصمد الجُعفی الکندی الکوفی ہے۔ اس کا عرف متنبی ہونے کا سبب بیان کرتے ہوئے ابوعباس احمد بن محمد خلکان نے تاریخ خلکان میں یوں رقمطراز ہیں:

إنما قيل له المتنبي لأنه ادعى النبوة في بادية السماوة وتبعه خلق كثير من بني كلب وغيرهم. فخرج إليه لؤلؤ أمير حمص نائب الإخشيدية فأسره وتفرق أصحابه وحبسه طويلا. ثم استتابه وأطلقه. وقيل غير ذلك وهذا أصح. وقيل إنه قال أنا أول من تنبأ بالشعر.

اسے متنبی اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ اس نے بادیہ سماوہ میں نبوت کا دعویٰ کیا اور بنو کلب وغیرہ میں سے بہت سے لوگوں نے اس کی پیروی کی۔ پھر اخشیدیہ کا نائب امیرِ حمص لؤلؤ اس کے مقابلے میں گیا تو اس نے متنبی او ر اس کے اصحاب کو گرفتار کر لیا اور انہیں لمبے زمانے تک قید رکھا۔ پھر اس سے توبہ کا مطالبہ کیا اور اسے رہا کر دیا۔ اس معاملے میں دیگر واقعات بھی بیان کیے جاتے ہیں مگر یہ زیادہ درست بات ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ متنبی کہتا تھا کہ میں پہلا شخص ہوں جس نے شعر سے دعویٰ نبوت کیا ہے۔

ابن خلكان، وفيات الأعيان وأنباء أبناء الزمان، 1: 122، بيروت، لبنان: دار الثقافة

مؤرخین نے متنبی کے جو احوال بیان کیے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ متنبی کے اشعار یا شعری تخیل کو اس کے ہمعصر علماء نے دعویٰ نبوت قرار دیا تھا‘ حقیقت اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی بہتر جانتے ہیں۔ بہرحال متنبی فہم و فراست کا حامل اور عربی لغت ماہر تھا۔ منفرد اور مبہم الفاظ کے جاننے والوں میں سے تھا۔ اکثر باتوں کے جواب میں عربوں کے منظوم و منثور کلام پیش کیا کرتا۔ اس کے اشعار عربی ادب کے قابلِ فخر اثاثہ ہیں۔ اسے خاتم الشعراء کہا گیا ہے یعنی ایسا شاعر جسے شعر کہنے کے فن میں آخری درجے کا کمال حاصل ہوا۔ اس کے دیوان کی چالیس چھوٹی بڑی شروحات لکھی گئی ہیں جو اس کا اعزاز ہے۔ ایسا کسی دوسرے دیوان کے ساتھ نہیں ہوا۔

آپ کے دوسرے سوال میں مرتد کی توبہ اور اس کی سزا معطل ہونے سے متعلق دریافت کیا گیا ہے‘ اس سوال کا جواب دیا جاچکا ہے۔ جواب کے مطالعہ کے لیے ملاحظہ کیجیے: ’گستاخ رسول کی سزا اور توبہ کا کیا حکم ہے؟‘

واللہ و رسولہ اعلم بالصواب۔

مفتی:محمد شبیر قادری

Print Date : 16 December, 2019 05:27:34 PM

Taken From : https://www.thefatwa.com/urdu/questionID/5222/